دمشق: شام نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ وہ یمن میں فوجی دستے بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے، تاہم ایک شامی سفارتی ذریعے نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ فوجی تعاون مستقبل میں مزید بڑھ سکتا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے سانا کو دیے گئے بیان کے مطابق موجودہ تعاون کا محور فورسز کی تربیت، صلاحیت سازی اور فوجی تجربات کا تبادلہ ہے۔

رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کو جولائی سے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی جھڑپوں اور حملوں کا سامنا ہے، جس کے باعث ریاض نے مختلف اتحادی ممالک سے دفاعی اور بعض عملی فوجی معاونت حاصل کرنے کی کوششیں تیز کی ہیں۔ ایک روز قبل رائٹرز نے دو شامی فوجی ذرائع اور ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ شام نے محدود تعداد میں فوجی اہلکار سعودی عرب بھیجے ہیں جو مشاورت اور تربیت فراہم کر رہے ہیں۔

تازہ شامی مؤقف میں یمن کے اندر فوجی تعیناتی کی بات مسترد کی گئی ہے۔ سفارتی ذریعے کے مطابق سعودی حکام کے رابطہ وفود اگلے ماہ شام کا دورہ کر سکتے ہیں اور تعاون مستقبل میں باہمی دفاعی معاہدے یا شام کی مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت تک بڑھ سکتا ہے، لیکن یہ امکانات دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات اور آئندہ فیصلوں سے مشروط ہیں؛ انہیں طے شدہ اقدام نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

مکہ دفاعی معاہدہ اگست میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے طے کیا تھا۔ ترکی نے جمعرات کو اس معاہدے کی توثیق کی، جس کے بعد انقرہ کے لیے ریاض کو معاہدے کے فریم ورک میں فوجی مدد فراہم کرنے کی راہ کھلی۔ شام اور سعودی عرب نے بدھ کو صدر احمد الشرع کے ریاض دورے کے دوران الگ دفاعی تعاون کا معاہدہ بھی کیا تھا۔ ایک سینئر شامی سفارت کار نے اسے فوجی تعاون کے لیے وسیع فریم ورک قرار دیا۔

شام کی علاقائی صف بندی 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد نمایاں طور پر تبدیل ہوئی ہے۔ احمد الشرع کی قیادت میں دمشق نے سعودی عرب اور امریکا کے ساتھ قریبی روابط استوار کیے ہیں، جبکہ سابق حکومت ایران کی اہم اتحادی تھی۔ اس تبدیلی کے باعث شام اور خلیجی ممالک کے دفاعی تعلقات بھی نئے مرحلے میں داخل ہوئے ہیں۔

موجودہ معلومات میں دو نکات الگ رکھنا ضروری ہیں: سعودی عرب میں شامی اہلکاروں کی محدود تربیتی یا مشاورتی موجودگی سے متعلق رائٹرز کی سابقہ رپورٹ، اور یمن میں باقاعدہ شامی فوج بھیجنے کی تازہ تردید۔ دمشق نے یمن میں تعیناتی کی تصدیق نہیں کی۔ آئندہ تعاون کی نوعیت، کسی ممکنہ دفاعی معاہدے یا مکہ معاہدے میں شمولیت کے بارے میں حتمی فیصلہ سرکاری اعلانات کے بعد ہی واضح ہوگا۔