بھارتی فضائیہ نے ہفتے کو اعلان کیا کہ اس کے IL-76MD بھاری فوجی ٹرانسپورٹ طیارے نے لداخ کے نیوما ایئرفیلڈ پر کامیاب لینڈنگ کی ہے۔ یہ فوجی اڈہ سطح سمندر سے تقریباً 4,154 میٹر بلند ہے اور چین کے ساتھ متنازع سرحد کے قریب واقع ہے۔ بھارتی فضائیہ نے اس کارروائی کو IL-76MD طیارے کی دنیا میں بلند ترین مقام پر کامیاب لینڈنگ قرار دیا ہے۔

IL-76MD روسی ساخت کا چار انجن والا بھاری ٹرانسپورٹ طیارہ ہے جسے بھارتی فضائیہ میں گجراج کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ فضائیہ کی جانب سے جاری تصاویر میں طیارے کو بلند، خشک اور پہاڑی علاقے میں واقع رن وے پر اترتے اور دوبارہ پرواز کرتے دکھایا گیا۔ علاقے میں سردیوں کے دوران درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے، جس سے بلند سطح پر پرواز اور زمینی آپریشنز کی تکنیکی پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں۔

نیوما کا فوجی ایئرفیلڈ گزشتہ برس مکمل کیا گیا تھا۔ بھارت نے 2020 میں چین کے ساتھ سرحدی جھڑپ کے بعد لداخ میں سڑکوں، پلوں، فضائی پٹیوں اور دیگر فوجی انفراسٹرکچر پر کام تیز کیا ہے۔ اس جھڑپ میں بھارت کے 20 اور چین کے چار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ دونوں ملکوں نے بعد کے برسوں میں بعض مقامات پر کشیدگی کم کرنے کے لیے فوجی اور سفارتی رابطے کیے، تاہم سرحدی تنازع مکمل طور پر حل نہیں ہوا۔

بھارت اور چین کے درمیان تقریباً 3,500 کلومیٹر طویل بلند پہاڑی سرحد کے مختلف حصوں پر علاقائی دعوے متنازع ہیں۔ دونوں جانب فوجی تعیناتیاں اور لاجسٹک صلاحیتیں اس خطے میں اہم دفاعی عنصر سمجھی جاتی ہیں۔ نیوما جیسے بلند مقام پر بھاری ٹرانسپورٹ طیارے کی آمد سے فوجیوں، سازوسامان اور رسد کی نقل و حرکت کی صلاحیت میں اضافہ ہو سکتا ہے، اگرچہ بھارتی فضائیہ نے اس مخصوص پرواز کو کسی فوری فوجی کارروائی سے نہیں جوڑا۔

نئی دہلی اور بیجنگ کے سیاسی تعلقات 2020 کے بعد شدید تناؤ کا شکار رہے، لیکن حالیہ عرصے میں اعلیٰ سطحی رابطوں کی بحالی سے کچھ بہتری آئی ہے۔ اس کے باوجود سرحد پر بنیادی اختلاف اور باہمی عدم اعتماد برقرار ہے۔

بھارتی فضائیہ کا دعویٰ اس کے اپنے سرکاری بیان پر مبنی ہے اور دستیاب رپورٹ میں کسی آزاد بین الاقوامی ادارے کی جانب سے عالمی ریکارڈ کی الگ تصدیق شامل نہیں۔ تاہم 4,154 میٹر بلند نیوما ایئرفیلڈ پر IL-76MD کی لینڈنگ خطے میں بھارت کی بلند پہاڑی فضائی رسد اور فوجی انفراسٹرکچر کی بڑھتی صلاحیت کی نمایاں مثال ہے۔