قطر نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے اس کی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں اور دوحہ کو امید ہے کہ فریقین کسی قابل عمل سمجھوتے تک پہنچ سکتے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے 7 نومبر کو کہا کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد بھی واشنگٹن کی انتظامیہ حل تلاش کرنے پر آمادہ ہے۔

قطری وزیراعظم کے مطابق ثالثی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ان کا خیال ہے کہ کسی تصفیے کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فریقین کو ایک مثالی یا ہر پہلو سے مکمل معاہدے کا انتظار کرنے کے بجائے ایک ایسے معاہدے کی طرف بڑھنا چاہیے جو موجودہ بحران کو کم کرنے میں مدد دے سکے۔ قطر حالیہ برسوں میں خطے کے متعدد تنازعات میں سفارتی ثالث کے طور پر کردار ادا کرتا رہا ہے۔

یہ سفارتی کوششیں ایسے وقت جاری ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان فوجی تصادم دوبارہ شدت اختیار کرنے کے خدشات موجود ہیں۔ رائٹرز کے مطابق خطے کے ممالک اس امکان پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف حملے دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ امریکا نے تازہ طور پر ایران کے اندر کسی نئے حملے کا اعلان نہیں کیا۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ نئے حملوں کی صورت میں وہ خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کے خلاف جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران ستمبر سے ایک سات روزہ منصوبہ پیش کرتا رہا ہے جس میں ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی اٹھانے، منجمد اثاثے کھولنے اور آبنائے ہرمز سے متعلق ایک ایرانی تجویز کی منظوری کے بعد اہم آبی گزرگاہ دوبارہ کھولنے کی بات شامل ہے۔ رائٹرز کے مطابق امریکی صدر اب تک اس منصوبے کو قبول نہیں کر چکے۔

اسی روز ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے ابتدائی اطلاعات کی بنیاد پر کہا کہ قشم جزیرے پر دو میزائل گرے، تاہم ممکنہ نقصان کے بارے میں سرکاری معلومات سامنے نہیں آئیں۔ اس واقعے کی مکمل تفصیلات اور ذمہ داری فوری طور پر واضح نہیں تھیں، اس لیے اسے قطری ثالثی سے براہ راست جوڑنے کی بنیاد موجود نہیں۔

قطر کی موجودہ کوششوں کا بنیادی ہدف فوری فوجی تصادم کے خطرے کو کم کرنا اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے قابل قبول راستہ پیدا کرنا ہے۔ خطے میں توانائی کی ترسیل، آبنائے ہرمز کی اہمیت اور خلیجی ممالک میں موجود حساس تنصیبات کے باعث کسی نئی فوجی شدت کے اثرات وسیع ہو سکتے ہیں۔ دوحہ کا مؤقف ہے کہ موجودہ مرحلے پر عملی سمجھوتا کشیدگی کو قابو میں رکھنے کے لیے زیادہ اہم ہے، تاہم کسی حتمی معاہدے کی شرائط یا وقت کے بارے میں ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔