صنعا: یمن کے حوثی گروپ نے منگل کو دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب میں ایک ہوائی اڈے اور فوجی فضائی اڈے کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔ یہ دعویٰ خطے میں جاری کشیدگی اور سرحد پار حملوں کے سلسلے میں سامنے آیا ہے، تاہم حوثیوں کی جانب سے بیان کردہ حملوں کے نتائج کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر دستیاب نہیں تھی۔
رپورٹ کے مطابق حوثی فوجی ترجمان نے کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ گروپ نے سعودی اہداف کے خلاف میزائل اور بغیر پائلٹ طیارے استعمال کیے۔ ترجمان کے بیان میں مخصوص فوجی مقاصد کے حصول کا دعویٰ بھی کیا گیا، لیکن ایسے دعوؤں کو متعلقہ فریق کے بیان کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے کیونکہ نقصان، جانی اثرات یا اہداف پر درست ضرب کے بارے میں آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔
سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان گزشتہ برسوں میں متعدد مرتبہ میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ سعودی دفاعی حکام نے بھی مختلف مواقع پر یمن سے آنے والے ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے کی اطلاعات دی ہیں۔ تازہ واقعے کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں وسیع تر سکیورٹی صورتحال پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے اور کسی نئے سرحد پار حملے سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
دستیاب رپورٹ میں حوثیوں کے دعوے اور کارروائی کی نوعیت بیان کی گئی ہے، مگر آزادانہ طور پر تصدیق شدہ جانی نقصان یا انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کی جامع تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ اسی لیے اس خبر میں حملے کو ثابت شدہ نتیجے کے بجائے حوثی گروپ کے دعوے کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔
حوثی تحریک یمن کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھتی ہے اور خطے میں جاری تنازعات کے دوران سعودی عرب سمیت مختلف اہداف کے خلاف کارروائیوں کے اعلانات کرتی رہی ہے۔ سعودی عرب خطے میں اپنے اہم شہری، توانائی اور فوجی تنصیبات کے تحفظ کے لیے فضائی دفاعی نظام استعمال کرتا ہے۔ ایسے واقعات کے بعد عموماً متعلقہ حکومتوں اور فوجی اداروں کی جانب سے مزید تفصیلات یا تردید و تصدیق سامنے آتی ہے۔
تازہ دعوے کے ممکنہ سفارتی اور عسکری اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سعودی حکام واقعے کے بارے میں کیا سرکاری معلومات جاری کرتے ہیں اور آیا حملے کے نتیجے میں کسی جانی یا مادی نقصان کی تصدیق ہوتی ہے۔ فی الحال دستیاب معتبر رپورٹ کی بنیاد پر اتنا ہی تصدیق شدہ طور پر کہا جا سکتا ہے کہ حوثی گروپ نے کارروائی کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے؛ اس کے بیان کردہ نتائج کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جا رہا۔
