واشنگٹن: امریکا میں منگل کو وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری ہے، جس میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں کے ساتھ سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر فیصلہ ہونا ہے۔ انتخابات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران ان کی پالیسیوں اور ریپبلکن پارٹی کی کانگریس پر گرفت کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں ووٹرز نے پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کیا، جبکہ دونوں بڑی جماعتیں—ریپبلکن اور ڈیموکریٹک—کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وسط مدتی انتخابات عام طور پر صدر کی چار سالہ مدت کے درمیان منعقد ہوتے ہیں اور ان کے نتائج آئندہ دو برس کے قانون سازی کے ایجنڈے پر براہِ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔
ایوانِ نمائندگان کی ہر نشست اس انتخابی مرحلے میں ووٹنگ کے لیے موجود ہے، جبکہ سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے۔ کسی بھی جماعت کے لیے ایوان یا سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنا وفاقی بجٹ، حکومتی نگرانی، تقرریوں اور اہم قانون سازی کے عمل میں نمایاں فرق پیدا کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے چند سخت مقابلے والی ریاستوں اور حلقوں کے نتائج قومی سطح پر خاص توجہ کا مرکز ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران معیشت، مہنگائی، امیگریشن، خارجہ پالیسی اور وفاقی حکومت کی سمت جیسے معاملات نمایاں رہے۔ تاہم ان مسائل پر ووٹرز کی ترجیحات ریاست اور حلقے کے لحاظ سے مختلف ہیں، اس لیے کسی ایک قومی موضوع کو تمام انتخابی نتائج کی واحد وجہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد مختلف ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی کے اوقات اور قواعد مختلف ہونے کے باعث تمام نتائج بیک وقت سامنے نہیں آئیں گے۔ قریبی مقابلوں میں حتمی نتیجے کے لیے مزید وقت بھی درکار ہو سکتا ہے۔ اس مرحلے پر کسی جماعت کی حتمی اکثریت یا مخصوص نشست کے فاتح کے بارے میں نتیجہ اخذ نہیں کیا جا رہا، کیونکہ پولنگ اور گنتی کا عمل جاری ہے۔
وسط مدتی انتخابات کا نتیجہ صدر ٹرمپ کی باقی مدت میں کانگریس کے ساتھ ان کے تعلقات اور پالیسی ایجنڈے کے امکانات طے کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اگر کانگریس کے کسی ایک ایوان کا کنٹرول تبدیل ہوتا ہے تو انتظامیہ کو قانون سازی اور حکومتی معاملات میں نئی سیاسی رکاوٹوں یا مذاکرات کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ موجودہ اکثریت برقرار رہنے کی صورت میں حکومتی ایجنڈے کو مختلف نوعیت کی سیاسی گنجائش مل سکتی ہے۔
