اسلام آباد/نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی فرسٹ کمیٹی نے پاکستان کی سرپرستی میں پیش کی گئی تخفیف اسلحہ اور بین الاقوامی سلامتی سے متعلق تین قراردادیں منظور کر لی ہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق قراردادوں میں علاقائی و ذیلی علاقائی سطح پر روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول، اعتماد سازی کے اقدامات اور غیر جوہری ریاستوں کو جوہری ہتھیار کے استعمال یا استعمال کی دھمکی سے تحفظ دینے کے لیے مؤثر بین الاقوامی انتظامات پر زور دیا گیا ہے۔

روایتی ہتھیاروں کے علاقائی اور ذیلی علاقائی کنٹرول سے متعلق قرارداد پاکستان اور بیلاروس نے مشترکہ طور پر پیش کی۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق اس کے حق میں 180 ووٹ آئے، دو ممالک نے مخالفت کی اور کوئی ملک غیر حاضر یا ممتنع نہیں رہا۔ بھارت اور اسرائیل نے قرارداد کی مخالفت کی۔ بھارتی نمائندے نے مؤقف اختیار کیا کہ روایتی ہتھیاروں کا کنٹرول بنیادی طور پر عالمی نوعیت کا معاملہ ہے اور ریاستوں کے سلامتی خدشات صرف جغرافیائی حدود تک محدود نہیں ہوتے۔

دوسری قرارداد علاقائی اور ذیلی علاقائی تناظر میں اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق تھی، جسے ووٹنگ کے بغیر منظور کیا گیا۔ اس نوعیت کی قراردادوں کا مقصد ریاستوں کے درمیان شفافیت، رابطے اور ایسے عملی اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جن سے غلط فہمی یا غیر ارادی کشیدگی کے خطرات کم کیے جا سکیں۔

تیسری قرارداد غیر جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستوں کو جوہری ہتھیار کے استعمال یا دھمکی کے خلاف مؤثر بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کرنے کے انتظامات سے متعلق تھی۔ رپورٹ کے مطابق اسے 122 ووٹوں کی حمایت حاصل ہوئی، کسی ملک نے مخالفت نہیں کی جبکہ 62 ممالک نے ووٹنگ میں رائے محفوظ رکھی۔ اقوام متحدہ کی فرسٹ کمیٹی تخفیف اسلحہ اور بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر قراردادوں کا جائزہ لے کر انہیں جنرل اسمبلی کے مزید عمل کے لیے آگے بڑھاتی ہے۔

پاکستان کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ میں علاقائی اسلحہ کنٹرول، اعتماد سازی اور غیر جوہری ریاستوں کے لیے سلامتی ضمانتوں کے موضوعات پر تجاویز پیش کرتا رہا ہے۔ دفتر خارجہ نے تازہ منظوری کو ان موضوعات پر پاکستان کی سفارتی کوششوں کے لیے وسیع بین الاقوامی حمایت کی علامت قرار دیا ہے۔ یہ سرکاری تشریح ہے؛ ہر قرارداد پر مختلف ممالک کی حمایت یا مخالفت ان کی اپنی سلامتی اور تخفیف اسلحہ پالیسیوں کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب عالمی سطح پر بڑے تنازعات اور اسلحہ کنٹرول کے کمزور ہوتے ڈھانچوں پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ قراردادوں کی منظوری سیاسی اور سفارتی اہمیت رکھتی ہے، تاہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور اس کی کمیٹیوں کی ایسی قراردادیں خود بخود کسی ریاست پر وہی قانونی پابندی عائد نہیں کرتیں جو باقاعدہ معاہدے یا پابند قانونی آلے سے پیدا ہوتی ہے۔ ان کا عملی اثر رکن ممالک کی بعد کی پالیسی، مذاکرات اور بین الاقوامی تعاون پر منحصر ہوگا۔