ریاض/صنعا: یمن کے ایران سے منسلک حوثی گروپ نے پیر کو دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ خام تیل پائپ لائن کے پمپنگ اسٹیشنز اور ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔ رائٹرز کے مطابق خبر سامنے آنے تک سعودی حکام کی جانب سے ان مخصوص حملوں کی فوری تصدیق نہیں کی گئی تھی، اس لیے حوثیوں کے دعوے کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ واقعہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
سعودی قیادت والے اتحاد نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں دو بیلسٹک میزائل لانچرز تباہ کیے، جن میں ایک ایسا لانچر بھی شامل تھا جس سے ریاض کی سمت میزائل داغا گیا تھا۔ اتحاد کے مطابق اس میزائل کو روک لیا گیا۔ حوثی حالیہ ہفتوں میں سعودی ایئرپورٹس، بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کے متعدد دعوے کر چکے ہیں، جبکہ سعودی حکام بعض حملوں یا انٹرسیپشنز کی الگ الگ تصدیق کرتے رہے ہیں۔
کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے اتوار کو دو ٹرمینلز پر پروازیں بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ ایئرپورٹ 10 اکتوبر کے ایک حملے کے بعد متاثر ہوا تھا جس کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کی تھی اور جس میں سعودی عرب کے مطابق 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایئرپورٹ کو دوبارہ نشانہ بنانے کی دھمکی دی اور ایئرلائنز اور مسافروں کو وہاں جانے سے گریز کا کہا۔
سعودی سول ڈیفنس نے اتوار کو بتایا تھا کہ خمیس مشیط اور احد رفیدہ کے اوپر دو بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے دوران گرنے والے ملبے سے دو افراد زخمی ہوئے اور عمارتوں و گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ اتحاد نے ریاض اور جنوبی سعودی عرب کی جانب آنے والے متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے دعوے بھی کیے ہیں۔ ان بیانات اور حوثی دعووں کے درمیان ہر مخصوص حملے کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق محدود ہے۔
سعودی عرب کی تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ پائپ لائن خلیج سے بحیرہ احمر کی سمت خام تیل منتقل کرنے کا اہم راستہ ہے۔ خطے میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث اس متبادل راستے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ پمپنگ اسٹیشنز کو حقیقی اور وسیع نقصان پہنچنے کی تصدیق ہونے کی صورت میں عالمی تیل کی رسد کے خدشات میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم اس مرحلے پر سعودی تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے اثرات کے بارے میں قطعی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہے۔
تازہ کشیدگی نے یمن میں 2022 سے بڑی حد تک قائم اقوام متحدہ کی ثالثی والی جنگ بندی کو بھی شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ سعودی اتحاد نے حوثی اہداف کے خلاف کارروائیاں تیز کی ہیں جبکہ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کی ہے۔ اس پس منظر میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ حکام کے ایران کے ساتھ علاقائی رابطوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے عسکری کشیدگی کے ساتھ سفارتی کوششوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

