لاہور: انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والے انسداد دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) بل 2026 پر سنگین تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’خصوصی سکیورٹی کیس‘ کے نام سے مجوزہ طریقۂ کار منصفانہ ٹرائل کی ضمانتوں کو کمزور اور ریاستی اختیار کے غلط استعمال کی گنجائش پیدا کر سکتا ہے۔ یہ کمیشن کا قانونی و انسانی حقوق پر مبنی مؤقف ہے؛ بل کی آئینی حیثیت کے بارے میں کسی عدالت نے اس خبر کے وقت فیصلہ نہیں دیا۔

بل کے تحت حکومت کی نامزد کردہ کم از کم گریڈ 20 کی ایک اتھارٹی، جس کی اپنی شناخت بھی خفیہ رکھی جا سکتی ہے، ایسے مقدمے یا مقدمات کے زمرے کو خصوصی سکیورٹی کیس قرار دے سکے گی جہاں شریک افراد کے لیے غیر معمولی تحفظ ضروری سمجھا جائے۔ ایسے مقدمات میں جج، سرکاری وکیل، پولیس اہلکار، گواہ، صفائی کے وکیل اور دیگر متعلقہ افراد کی شناخت ظاہر نہ کرنے کی گنجائش دی گئی ہے۔

مجوزہ شقوں کے تحت عدالتی احکامات پر جج کے نام کے بجائے سرکاری عہدہ درج کیا جا سکے گا، گواہوں کے لیے شناختی کوڈ استعمال ہوں گے اور مکمل ریکارڈ سربمہر رکھا جا سکتا ہے۔ کارروائی محفوظ مقام، جیل یا ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے، آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ اور آواز بدلنے کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی تجاویز بھی بل کا حصہ ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کی نامزدگی کی درخواست کرنے کا طریقہ بھی تجویز کیا گیا ہے۔

ایچ آر سی پی نے کہا کہ بل واضح طور پر یہ متعین نہیں کرتا کہ کن حالات میں یہ غیر معمولی اختیارات استعمال کیے جا سکیں گے۔ کمیشن کے مطابق مبہم دائرۂ اختیار کے باعث خدشہ ہے کہ حفاظتی جواز عام شہریوں، سیاسی مخالفین یا مظاہرین کے مقدمات تک پھیلایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک خدشہ اور تنقیدی جائزہ ہے، کسی مخصوص مقدمے میں ثابت شدہ غلط استعمال کا نتیجہ نہیں۔

حقوق تنظیم نے آئین کے آرٹیکل 9، 10 اے اور 14 کا حوالہ دیا، جو بالترتیب شخصی تحفظ، منصفانہ ٹرائل اور انسانی وقار سے متعلق ہیں۔ اس نے شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی میثاق کے آرٹیکل 14 کی جانب بھی توجہ دلائی۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ مقدمے کے بنیادی شرکا کی شناخت اور مواد تک محدود رسائی کسی بے قصور ملزم کے لیے شواہد کو مؤثر طور پر چیلنج کرنے یا کارروائی کی غیر جانب داری جانچنے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

پنجاب حکومت اور بل کے حامیوں کا مؤقف مختلف ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے مقدمات میں ججوں، پراسیکیوٹرز، تفتیشی اہلکاروں اور گواہوں کو دھمکی، اغوا یا قتل جیسے حقیقی خطرات لاحق رہے ہیں، اس لیے شناختی تحفظ اور محفوظ کارروائی مقدمات کو انجام تک پہنچانے کے لیے درکار ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مقدمہ بدستور انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کے سامنے ہوگا اور ملزم کا دفاع کا حق ختم نہیں کیا جا رہا۔

پنجاب اسمبلی نے 31 اگست کو اپوزیشن کے اعتراضات اور واک آؤٹ کے بعد بل منظور کیا۔ اپوزیشن ارکان نے خصوصی سکیورٹی کیس کی تعریف، انتظامیہ کے اختیار اور عدالتی شفافیت پر سوال اٹھائے، جبکہ حکومتی ارکان نے اسے سکیورٹی خطرات کا عملی جواب قرار دیا۔ اسمبلی ریکارڈ میں بل کا درجہ ’منظور شدہ‘ درج ہے؛ گزٹ نوٹیفکیشن اور مکمل نفاذ کی الگ قانونی مراحل سے متعلق تازہ تفصیل دستیاب ذرائع میں واضح نہیں۔

ایچ آر سی پی نے بل پر دوبارہ غور، غیر معمولی اختیارات کی تنگ اور واضح تعریف، ضابطہ بندی اور آزاد عدالتی نگرانی کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن نے تسلیم کیا کہ عدالتی و تفتیشی اہلکاروں کو حقیقی خطرات سے محفوظ رکھنا ریاست کی جائز ذمہ داری ہے، مگر اس کے نزدیک حفاظتی انتظامات بنیادی حقوق سے زیادہ وسیع نہیں ہونے چاہییں۔

آئندہ مرحلے میں بل کے سرکاری متن، ممکنہ گزٹ نوٹیفکیشن، قواعد اور کسی عدالتی جانچ سے اس کے عملی دائرے کی بہتر وضاحت ہوگی۔ فی الحال مصدقہ حقائق پنجاب اسمبلی کی منظوری، بل میں خصوصی سکیورٹی انتظامات، حکومت کا حفاظتی جواز اور ایچ آر سی پی و دیگر ناقدین کے منصفانہ ٹرائل سے متعلق اعتراضات ہیں۔