اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات نے اسلام آباد کی مقامی حکومت کے نظام میں تبدیلیوں سے متعلق بل 8 کے مقابلے میں 4 ووٹ سے منظور کر لیا ہے۔ 3 ستمبر 2026 کے اجلاس میں 12 ارکان ووٹنگ کے وقت موجود تھے۔ آٹھ ارکان نے بل کی حمایت کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چار ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت کمیٹی کی رپورٹ کے ساتھ اختلافی نوٹ جمع کرائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مجوزہ تبدیلیوں کے باعث اسلام آباد اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوں گے۔ وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اس دعوے کو عمومی اور قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاملے پر حقائق کی بنیاد پر گفتگو کی جانی چاہیے۔ انتخابات نہ ہونے سے متعلق پٹیل کا بیان سیاسی پیش گوئی اور اپوزیشن کا مؤقف ہے، الیکشن کمیشن کا باضابطہ نیا فیصلہ نہیں۔

زیرِ غور فریم ورک میں موجودہ میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کی جگہ وفاقی دارالحکومت کو تین ٹاؤن کارپوریشنوں میں تقسیم کرنے کی تجویز شامل ہے۔ جنوری میں نافذ کیے گئے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس 2026 کے مطابق ہر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک میئر، دو ڈپٹی میئر اور متعلقہ یونین کونسلوں کے چیئرمینوں پر مشتمل کونسل کا انتظام رکھا گیا تھا۔ تینوں ٹاؤنز کی حدود کو حتی الامکان اسلام آباد کے قومی اسمبلی حلقوں کے مطابق ترتیب دینے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

آرڈیننس میں حکومت کے مقرر کردہ ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات بھی بڑھائے گئے تھے۔ سابقہ چھ ماہ کی مدت کی پابندی ہٹا کر اسے نئی منتخب مقامی حکومت کے قیام تک کام جاری رکھنے کی گنجائش دی گئی، جبکہ ٹیکس، فیس، شرح، کرایہ، ٹول یا سرچارج عائد کرنے سے متعلق اختیارات بھی شامل کیے گئے۔ یہی دفعات اپوزیشن اور انتخابی نگرانی کرنے والے حلقوں کی تنقید کا مرکز رہی ہیں، جو انہیں منتخب ادارے کے مقابل غیرمنتخب انتظامیہ کے اختیارات میں اضافہ قرار دیتے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے جنوری 2026 میں مقامی حکومت ایکٹ 2015 میں ترامیم کے لیے آرڈیننس جاری کیا تھا۔ اس کے بعد 15 فروری کو طے شدہ اسلام آباد بلدیاتی انتخابات ملتوی ہو گئے، حالانکہ 125 یونین کونسلوں سے ہزاروں امیدوار نامزدگی کاغذات جمع کرا چکے تھے۔ نئی انتظامی ساخت، ٹاؤن حدود، یونین کونسلوں کی تقسیم اور متعلقہ نقشوں کی تیاری انتخابی شیڈول کے لیے اہم شرائط بن گئیں۔

3 ستمبر کی قائمہ کمیٹی کی منظوری قانون سازی کا ایک مرحلہ ہے، حتمی قانون نہیں۔ کمیٹی کی رپورٹ اور بل کو قومی اسمبلی کے سامنے پیش کیا جائے گا، جہاں ایوان اس پر بحث، ترمیم یا منظوری کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ اس کے بعد آئینی طور پر درکار دیگر مراحل اور صدارتی منظوری مکمل ہونے پر ہی پارلیمانی بل مستقل قانون کی شکل اختیار کرے گا۔ اس لیے کمیٹی کی ووٹنگ سے فوری طور پر نہ نئی ٹاؤن کارپوریشنیں منتخب ہو گئی ہیں اور نہ بلدیاتی انتخابات کی کوئی حتمی تاریخ مقرر ہوئی ہے۔

حکومت مجوزہ نظام کو وفاقی دارالحکومت کی انتظامی تقسیم اور خدمات کی مقامی سطح پر تنظیمِ نو سے جوڑتی ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ بار بار قانونی ڈھانچہ بدلنے سے طویل عرصے سے مؤخر انتخابات مزید تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں اور ایڈمنسٹریٹر کے وسیع اختیارات مقامی جمہوریت کو کمزور کرتے ہیں۔ آئندہ فیصلہ قومی اسمبلی کی کارروائی، الیکشن کمیشن کو مطلوب نوٹیفکیشنز اور حلقہ بندیوں کی تکمیل سے واضح ہوگا۔