اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز، میں 14 نومولود بچوں کی جان لینے والی آتش زدگی کے بعد معطل کیے گئے آٹھ افسران کے خلاف الگ الگ فوجداری مقدمات درج کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے 3 ستمبر 2026 کو جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی کی حتمی رپورٹ دو روز میں متوقع ہے اور اس کے بعد دو سے تین دن کے اندر قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔

آگ 26 اگست کو پمز کے زچہ و بچہ شعبے کے نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں لگی تھی، جہاں اس وقت 15 بچے موجود تھے۔ ہسپتال حکام کے مطابق 14 نومولود جانبر نہ ہو سکے جبکہ ایک بچے کو بچا لیا گیا۔ واقعے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے انکوائری کا حکم دیا اور عبوری رپورٹ سامنے آنے پر پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت آٹھ متعلقہ افسران کو معطل کرنے کی منظوری دی۔ معطلی ایک انتظامی اقدام ہے، مجرمانہ ذمہ داری کا حتمی عدالتی فیصلہ نہیں۔

طارق فضل چوہدری کے مطابق حتمی رپورٹ ہر معطل فرد کے کردار، ممکنہ غفلت اور ذمہ داری کی نوعیت الگ الگ واضح کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس بھی تفتیش کر رہی ہے اور اسلام آباد کا محکمہ قانون مقدمات کے قانونی پہلوؤں پر کام کر رہا ہے۔ مقدمہ درج ہونا الزام کی باقاعدہ تفتیش کا آغاز ہوگا؛ قصور ثابت کرنے اور سزا دینے کا اختیار متعلقہ تحقیقاتی اداروں اور عدالتوں کے قانونی عمل سے مشروط ہے۔

وزارتِ قومی صحت کی ویب سائٹ پر جاری عبوری انکوائری رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کا قطعی تکنیکی سبب ابھی متعین نہیں ہو سکا۔ کمیٹی نے کہا کہ ممکنہ ذریعہ کسی انکیوبیٹر، وارمر، ایئرکنڈیشنر، پلگ، ساکٹ، وائرنگ یا دوسرے برقی آلے کے اندرونی نقص سے متعلق ہو سکتا ہے، لیکن دستیاب شواہد کسی ایک آلے کو حتمی طور پر ذمہ دار ثابت نہیں کرتے۔ اس لیے آگ کی ابتدا سے متعلق ابتدائی اندازوں کو ثابت شدہ نتیجہ قرار نہیں دیا گیا۔

رپورٹ نے فرنٹ لائن طبی عملے کے بارے میں یہ عمومی الزام بھی قبول نہیں کیا کہ انہوں نے بچوں کو چھوڑ دیا تھا۔ کمیٹی کے مطابق سی سی ٹی وی ریکارڈ فوری امدادی کوششوں کی نشان دہی کرتا ہے۔ تاہم ادارہ جاتی سطح پر فائر اور لائف سیفٹی تیاری، ہنگامی اخراج، رسائی کے راستوں، بروقت اطلاع، انخلا کی منصوبہ بندی، آگ بجھانے کے انتظامات، سکیورٹی رابطے اور ذمہ داریوں کو عملی تیاری میں بدلنے کے حوالے سے بادی النظر میں سنگین خامیاں سامنے آئیں۔

کمیٹی نے خاص طور پر اس امر کو اہم قرار دیا کہ پمز میں تقریباً سات ہفتے پہلے بھی آگ لگنے کا ایک واقعہ پیش آیا تھا اور اسی نوعیت کی حفاظتی کمزوریاں پہلے ہی نشان زد کی جا چکی تھیں۔ عبوری رپورٹ نے کہا کہ لازمی فائر ایگزٹ بند یا رکا ہوا ہونے، پہلے سے معلوم حفاظتی خامیوں پر ممکنہ طور پر عمل نہ کرنے، یا بیرونی ایمرجنسی خدمات کو بلانے میں قابلِ مواخذہ تاخیر کے دعووں کی فوجداری تحقیق ہونی چاہیے، بشرطیکہ تصدیق پر قابلِ دست اندازی جرم کے عناصر سامنے آئیں۔

رپورٹ نے جواب دہی کے لیے تین الگ راستے تجویز کیے: سرکاری ذمہ داری میں بادی النظر کوتاہی پر محکمانہ کارروائی، آؤٹ سورس معاہدوں کی خلاف ورزی پر معاہداتی اقدام، اور ایسی قابلِ مواخذہ غفلت پر فوجداری تحقیق جس نے جانوں کے نقصان میں مادی کردار ادا کیا ہو۔ ان میں سے ہر راستہ الگ ثبوت اور قانونی معیار کا تقاضا کرتا ہے۔

وزیراعظم نے اس سے قبل کہا تھا کہ جن اہلکاروں کی ”مجرمانہ غفلت“ ثابت ہوئی انہیں رعایت نہیں دی جائے گی۔ یہ حکومتی ہدایت انکوائری اور تفتیش مکمل کرنے سے متعلق ہے؛ ابھی کسی فرد کے خلاف حتمی عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ حتمی رپورٹ، پولیس تفتیش اور ممکنہ مقدمات سے یہ واضح ہوگا کہ انتظامی خامیوں کو کن افراد یا اداروں سے قانونی طور پر جوڑا جاتا ہے۔