اسلام آباد میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے دوسرے دور کے مذاکرات ہفتے کی شب کسی حتمی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے۔ مذاکرات کی صدارت قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے کی اور ان میں حکومتی نمائندوں، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن رہنماؤں نے شرکت کی۔ بات چیت کا مقصد پاکستان تحریک انصاف کے 4 اکتوبر کے اسلام آباد مارچ سے قبل ایسا راستہ تلاش کرنا تھا جس سے سیاسی محاذ آرائی میں کمی آ سکے۔
مذاکرات کے بعد سامنے آنے والے بیانات کے مطابق فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار رہے۔ اپوزیشن کی جانب سے سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات، ان کی طبی سہولتوں اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق نکات اٹھائے گئے۔ دوسری جانب حکومتی نمائندے مارچ واپس لینے اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیتے رہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے واضح کیا کہ ان کے مطالبات پر عملی پیش رفت کے بغیر احتجاجی پروگرام ختم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق دوسرے دور کی بات چیت ہفتے کی رات تعطل پر ختم ہوئی اور اپوزیشن نے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کو اہم شرط قرار دیا۔ جیو نیوز نے بھی مذاکرات میں عمران خان تک رسائی، طبی معاملات اور خیبر پختونخوا کے انسدادِ دہشت گردی اقدامات سے متعلق اختلافات کی نشاندہی کی۔ ان رپورٹس سے یہ واضح ہے کہ فریقین نے مذاکرات کا راستہ اختیار ضرور کیا، لیکن فوری سیاسی سمجھوتا سامنے نہیں آ سکا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے جب اسلام آباد میں 4 اکتوبر کے مجوزہ مارچ کے باعث سکیورٹی انتظامات سخت کیے جا چکے تھے اور وفاقی دارالحکومت سمیت مختلف مقامات پر سیاسی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جا رہی تھی۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا، تاہم مارچ کے مستقبل اور متنازع مطالبات پر کوئی متفقہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ اس لیے موجودہ صورت حال میں احتجاجی پروگرام برقرار ہے اور آئندہ پیش رفت کا انحصار فریقین کے مزید رابطوں اور مطالبات پر ممکنہ عملی اقدامات پر ہوگا۔
