اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مختصر مدت کے لیے ردوبدل کرتے ہوئے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 13 پیسے کمی اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 74 پیسے اضافہ کر دیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق ہفتہ 5 ستمبر سے ہوگا اور یہ پیر 7 ستمبر تک برقرار رہیں گی۔
قیمتوں میں یہ تبدیلی ایسے وقت کی گئی ہے جب عالمی توانائی منڈی میں تیل اور خصوصاً ڈیزل کی قیمتوں پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اثرات نمایاں ہیں۔ پاکستان اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمدی خام تیل اور تیار پیٹرولیم مصنوعات سے پورا کرتا ہے، اس لیے بین الاقوامی قیمتوں اور شرح مبادلہ میں تبدیلی مقامی صارفین کے لیے قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
حکومتی فیصلے کے نتیجے میں پیٹرول استعمال کرنے والے موٹر سائیکل اور کار صارفین کو فی لیٹر محدود ریلیف ملے گا، تاہم ہائی اسپیڈ ڈیزل مہنگا ہونے سے مال برداری، بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور دیگر ڈیزل استعمال کرنے والے شعبوں کی لاگت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں تبدیلی کا اثر بالواسطہ طور پر اشیا کی نقل و حمل کے اخراجات میں بھی سامنے آ سکتا ہے، اگرچہ اس کے حقیقی اثر کا انحصار مارکیٹ کے حالات اور ٹرانسپورٹ کرایوں کے ردعمل پر ہوگا۔
حکومت پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیتی ہے۔ موجودہ اعلان کی خاص بات یہ ہے کہ نئی قیمتوں کی مدت 5 سے 7 ستمبر تک بتائی گئی ہے، اس لیے صارفین اور کاروباری حلقوں کی توجہ اگلے جائزے پر بھی رہے گی۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مہنگائی، نقل و حمل اور پیداواری لاگت سے براہ راست جڑی ہوتی ہیں۔ پیٹرول میں کمی سے شہری سفر کے بعض اخراجات میں معمولی آسانی ممکن ہے، جبکہ ڈیزل میں اضافہ تجارتی اور زرعی سرگرمیوں کے لیے مخالف سمت کا اثر رکھتا ہے۔ فی الحال حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق دونوں مصنوعات کی قیمتوں میں مختلف سمتوں میں تبدیلی کی گئی ہے اور آئندہ ردوبدل کا دارومدار اگلے سرکاری جائزے پر ہوگا۔




