بڈاپسٹ: ہنگری کی حکومت نے ملک میں بجلی کی بڑھتی لاگت اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزیر اعظم پیٹر مجیار کی انتظامیہ میں توانائی کے امور کے ریاستی سیکریٹری آندراس ٹوتھ نے آٹھ اکتوبر کو ایک کانفرنس میں بتایا کہ نئی حکمت عملی کا مقصد خصوصاً کاروباری اداروں کو نسبتاً کم قیمت پر توانائی فراہم کرنا ہے۔

حکومت نے اگست میں 700 میگاواٹ گنجائش کی نئی ونڈ ٹربائنز کے لیے ٹینڈر جاری کیا تھا۔ اس اقدام کے ذریعے 2030 تک ہوا سے بجلی بنانے کی مجموعی صلاحیت چار گیگاواٹ تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ موجودہ صلاحیت کے مقابلے میں دس گنا سے زیادہ اضافہ ہوگا۔ حکام کے مطابق 2040 تک ہوا سے بجلی کی گنجائش چھ گیگاواٹ سے بھی بڑھ سکتی ہے، تاہم یہ طویل مدتی امکان ہے، مکمل شدہ منصوبوں کی تعداد نہیں۔

ہنگری میں گزشتہ برسوں کے دوران شمسی توانائی پر زیادہ توجہ رہی ہے اور شمسی بجلی پیدا کرنے کی نصب شدہ صلاحیت تقریباً نو گیگاواٹ بتائی گئی ہے۔ نئی حکمت عملی میں ہوا اور شمسی توانائی کے امتزاج کے ذریعے بجلی کے نظام میں تنوع لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ٹوتھ نے واضح کیا کہ صنعتوں کے لیے بجلی سستی بنانے کا ہدف فوری طور پر ایک سال میں حاصل نہیں ہوگا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت توانائی کی بنیادی ساخت میں تبدیلی کو مرحلہ وار عمل سمجھ رہی ہے۔

روئٹرز کے مطابق ہنگری اپنے ایندھن کی ضرورت کا اسی فیصد سے زیادہ درآمد کرتا ہے، جس میں تیل، قدرتی گیس اور جوہری ایندھن شامل ہیں۔ توانائی کے شعبے کی اس بیرونی وابستگی کو عالمی منڈیوں اور جغرافیائی سیاسی بحرانوں کے مقابلے میں کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ سرکاری عہدیدار نے کہا کہ عالمی جھٹکوں کا اثر براہ راست ملکی توانائی کے نظام اور صنعتی مسابقت پر پڑتا ہے۔

توانائی کے نظام کے لیے موسمی خطرات بھی اہم ہیں۔ حکام نے بتایا کہ اگست میں شدید خشک سالی کے دوران دریائے ڈینیوب کی سطح کم ہونے سے پاکس کے جوہری بجلی گھر کی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔ ریاستی سیکریٹری کے مطابق بعض اوقات بجلی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرنا پڑا۔ اس کے باوجود انہوں نے موجودہ دو گیگاواٹ کے جوہری پلانٹ کی مدت میں توسیع کو اہم منصوبہ قرار دیا۔

حکومتی منصوبوں میں یورپی یونین سے دستیاب ہونے والے فنڈز کو توانائی کی بنیادی ڈھانچہ جاتی بہتری میں استعمال کرنے کی توقع بھی شامل ہے۔ تاہم ٹینڈر جاری ہونا، پیداواری ہدف طے ہونا اور منصوبوں کا مکمل فعال ہونا الگ مراحل ہیں۔ نئی پالیسی کا عملی نتیجہ مستقبل میں تعمیر، سرمایہ کاری اور گرڈ کی استعداد بڑھنے پر منحصر رہے گا۔