اقوام متحدہ: پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی دوسری کمیٹی میں موسمیاتی مالیات، ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کے نظام اور مشترکہ آبی وسائل پر بین الاقوامی تعاون کو اپنی اہم ترجیحات کے طور پر پیش کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندے سفیر عثمان جدون نے کمیٹی کے عمومی مباحثے میں کہا کہ عالمی اقتصادی اور ترقیاتی وعدوں کو عملی وسائل اور قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی نمائندے نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے 300 ارب ڈالر کی کلائمیٹ فنانس کے لیے ایک قابل اعتماد عملی راستہ وضع کرنے پر زور دیا، جس میں گرانٹس اور رعایتی فنانسنگ شامل ہو۔ انہوں نے موافقتی مالیات کو تین گنا کرنے اور لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو مناسب سرمایہ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ پاکستان نے ترکیہ اور آسٹریلیا کی اس کوشش کی حمایت کی کہ آئندہ COP31 کو وعدوں کے بجائے عملی فراہمی اور نتائج سے جوڑا جائے۔

آبی وسائل کے معاملے میں عثمان جدون نے 2026 اور 2028 کی اقوام متحدہ واٹر کانفرنسز سے مطالبہ کیا کہ وہ مشترکہ پانی کے تمام اہم چیلنجز، بالخصوص سرحد پار آبی تعاون، کو جامع انداز میں دیکھیں۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون اور موجودہ معاہدوں کے احترام پر زور دیا۔ پاکستانی بیان میں کسی مخصوص معاہدے کا نام مرکزی مطالبے کے طور پر نہیں دیا گیا، تاہم جنوبی ایشیا میں سرحد پار پانی کے تناظر میں اس مؤقف کی واضح علاقائی اہمیت ہے۔

پاکستان نے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے سالانہ تقریباً 4 ٹریلین ڈالر کے عالمی مالیاتی خلا کا حوالہ دیتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کے لیے بین الاقوامی عوامی مالیات میں توسیع، ترقیاتی امداد کی پیش گوئی کے قابل فراہمی، کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں کی قرض دینے کی صلاحیت بڑھانے اور قرض لینے کی لاگت کم کرنے پر بھی زور دیا۔ اسلام آباد نے عالمی قرض ڈھانچے میں اصلاح اور ترقی پذیر ممالک کی فیصلہ سازی میں زیادہ آواز کا مطالبہ کیا۔

تجارت کے بارے میں پاکستان نے عالمی تجارتی تنظیم کے دو سطحی تنازعات کے حل کے نظام کی بحالی، ترقی پذیر ممالک کے لیے خصوصی اور امتیازی سلوک کے اصول کے تحفظ اور یکطرفہ تجارتی پابندیوں میں کمی کی حمایت کی۔ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے پاکستانی نمائندے نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی، مہارت اور سرمایہ کاری تک غیر مساوی رسائی ترقی کے نئے فرق کو جنم دے سکتی ہے۔

یہ مطالبات پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں پیش کردہ پالیسی مؤقف ہیں؛ 300 ارب ڈالر کی مالیات یا دیگر اصلاحات کی منظوری اس تقریر سے خود بخود نہیں ہوتی بلکہ ان کے لیے رکن ممالک، مالیاتی اداروں اور متعلقہ عالمی مذاکرات میں مزید اتفاق رائے اور عملی فیصلے درکار ہوں گے۔