پشاور: خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں شدید بارش اور ژالہ باری کے دوران مردان میں چھتیں گرنے کے دو الگ واقعات میں ایک سات سالہ بچہ جاں بحق اور چار افراد زخمی ہو گئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق کٹلنگ میں گھر کے ایک کمرے کی چھت گرنے سے بچہ جان سے گیا جبکہ اس کی والدہ اور کم عمر بہن زخمی ہوئیں۔ بالا گڑھی کے ایک دوسرے واقعے میں دو خواتین زخمی ہوئیں جنہیں مردان میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔

پاکستان محکمہ موسمیات کے مطابق پشاور میں دن کے دوران صوبے کی سب سے زیادہ 38 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ شہر کے متعدد مرکزی راستوں اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی۔ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے بتایا کہ بارش کے باعث اس کے 83 فیڈرز ٹرپ ہوئے، جن میں پشاور، خیبر، صوابی اور مردان کے فیڈرز شامل تھے۔ نوشہرہ میں بارش میں پھنسے سات افراد کو ریسکیو کیا گیا۔

مہمند کے پنڈیالی اور ملحقہ علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ ژالہ باری نے کھڑی فصلوں اور سولر توانائی کے نظام کو نقصان پہنچایا۔ مقامی کاشتکاروں کے مطابق ٹماٹر، دھنیا اور مرچ سمیت فصلیں متاثر ہوئیں، جبکہ گھروں اور زرعی ٹیوب ویلوں پر نصب سولر پینلز بھی ٹوٹے۔ کسانوں نے صوبائی حکومت سے نقصان کے فوری سروے اور معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ نقصان کی مالیت سے متعلق مقامی اندازے سامنے آئے ہیں لیکن کسی جامع سرکاری سروے کا نتیجہ ابھی رپورٹ نہیں ہوا۔

چارسدہ میں نکاسی آب کا نظام متاثر ہونے سے سڑکوں، گھروں اور بعض سرکاری اسکولوں میں پانی داخل ہوا۔ ریسکیو ٹیموں نے پانی نکالنے اور متاثرہ مقامات پر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ رہائشیوں نے مستقل نکاسی آب کے حل کا مطالبہ کیا ہے۔

موجودہ بارش نے جانی نقصان کے ساتھ شہری انفراسٹرکچر، بجلی اور زرعی پیداوار پر بھی اثر ڈالا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں مزید نقصان کا درست تخمینہ مقامی انتظامیہ اور زرعی محکموں کے سروے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔