اسلام آباد: انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کی مشاورتی کمیٹی نے ربیع سیزن، یکم اکتوبر سے 31 مارچ، کے لیے پنجاب اور سندھ کے پانی کے حصے میں مجموعی طور پر 22 فیصد کمی کی منظوری دی ہے۔ ڈان کے مطابق پانی کی دستیابی اور نظام کے آپریشنل تخمینوں کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا، جس کا سیزن کے دوران صورتحال کے مطابق دوبارہ جائزہ بھی لیا جا سکتا ہے۔
ارسا کے بیان کے مطابق طے شدہ آبی آمد اور دیگر نظامی عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے پنجاب اور سندھ دونوں کے لیے مجموعی کمی 22 فیصد بنتی ہے۔ صوبائی تقسیم عملی طور پر تین سطحی فارمولے کے تحت کی گئی ہے جس میں پانی کی کمی کا اطلاق پنجاب اور سندھ پر ہوتا ہے، جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو سپلائی کٹوتی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
ربیع پاکستان کے زرعی کیلنڈر کا اہم سیزن ہے اور گندم اس عرصے کی بنیادی فصلوں میں شامل ہے۔ اس لیے آبپاشی کے پانی میں نمایاں کمی زرعی پیداوار، کاشتکاروں کی منصوبہ بندی اور آئندہ سال غذائی رسد کے لیے اہم مسئلہ بن سکتی ہے۔ تاہم حقیقی اثر کا انحصار سیزن کے دوران دریاؤں میں پانی کی آمد، ذخائر، بارش اور صوبائی تقسیم کے عملی انتظام پر ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بعض تخمینے اس سے زیادہ قلت کی نشاندہی کر رہے تھے۔ باخبر ذرائع کے مطابق پنجاب اور واپڈا نے 26 فیصد کمی کا اندازہ دیا تھا اور ارسا کے داخلی حساب میں بھی 26 فیصد کا تخمینہ سامنے آیا، جبکہ سندھ نے تین سطحی تقسیم کے فارمولے پر اپنا اعتراض برقرار رکھا۔ ان مختلف تخمینوں اور صوبائی موقف کے باوجود مشاورتی کمیٹی نے فی الحال 22 فیصد کمی کی منظوری دی۔
ارسا نے اہم آبی منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر پر بھی تشویش ظاہر کی، کیونکہ ایسی تاخیر پانی کی قلت اور نظامی دباؤ کو بڑھا سکتی ہے۔ ربیع کے دوران پانی کی دستیابی میں تبدیلی کی صورت میں مختص حصوں پر نظرثانی ممکن ہے، اس لیے منظور شدہ 22 فیصد کمی پورے سیزن کے ہر مرحلے کے لیے غیر متغیر حتمی مقدار نہیں سمجھی جانی چاہیے۔

