سووا: بحرالکاہل کے موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کو صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں زیادہ تیز، گہری اور مسلسل کمی کی جائے۔ رائٹرز کے مطابق فجی میں 50 سے زائد ممالک کے نمائندوں کی شرکت سے ہونے والی اہم موسمیاتی ملاقات میں یہ مطالبہ آئندہ COP31 مذاکرات سے قبل سامنے آیا۔
بحرالکاہل کے جزیرہ ممالک طویل عرصے سے سمندر کی سطح میں اضافے، ساحلی کٹاؤ، شدید طوفانوں اور آبادیوں کی نقل مکانی کو اپنے وجود کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیتے آئے ہیں۔ فجی کی موسمیاتی وزیر لنڈا تابویا نے اجلاس میں خطے میں بڑھتی لہروں اور متاثرہ آبادیوں کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مستقبل کا تصور نہیں بلکہ موجودہ حقیقت ہیں۔
رائٹرز کے مطابق اجلاس سے قبل ٹووالو کے دورے میں تقریباً 30 ممالک کے نمائندوں نے ایک اعلامیہ اختیار کیا جس میں اخراج میں ’’گہری، تیز اور مسلسل‘‘ کمی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ بحرالکاہل کے ممالک کی ترجیحات میں 1.5 ڈگری کے ہدف کو برقرار رکھنا، موسمیاتی مالیات تک زیادہ مؤثر رسائی اور سمندروں و ساحلی نظام کے تحفظ کے لیے مضبوط بین الاقوامی اقدامات شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کی عہدیدار دیچن سیرنگ نے خبردار کیا کہ 1.5 ڈگری کی حد سے تجاوز طویل مدتی سطح سمندر میں اضافے اور ایسے نقصانات کا خطرہ بڑھا سکتا ہے جنہیں واپس پلٹانا ممکن نہ ہو۔ سائنس دان پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ عالمی اوسط درجہ حرارت میں ہر اضافی حصہ شدید موسمی واقعات اور حساس ماحولیاتی نظاموں کے لیے خطرات بڑھاتا ہے۔
COP31 ترکی کے شہر انطالیہ میں منعقد ہونا ہے جبکہ آسٹریلیا مذاکراتی عمل میں اہم قیادتی کردار ادا کر رہا ہے۔ ترکی اور آسٹریلیا دونوں نے 1.5 ڈگری کی حد سے ممکنہ تجاوز کو کم سے کم رکھنے کے ہدف کی توثیق کی ہے۔ بحرالکاہل کے ممالک چاہتے ہیں کہ آئندہ اجلاس میں بڑے اخراج کرنے والے ممالک صرف طویل مدتی وعدوں پر اکتفا نہ کریں بلکہ قریب المدت اخراج میں قابل پیمائش کمی اور کمزور ممالک کے لیے مالی و تکنیکی معاونت کو عملی شکل دیں۔

