جنیوا: اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی موسمیاتی تنظیم نے 8 اکتوبر 2026 کو جاری موسمیاتی جائزے میں خبردار کیا ہے کہ جاری ایل نینو کا سلسلہ آنے والے مہینوں میں مزید مضبوط ہو سکتا ہے اور دسمبر میں اپنی انتہائی سطح تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ادارے کے مطابق یہ مظہر 1950 کے بعد دیکھے گئے طاقتور ترین ایل نینو واقعات میں شامل ہو سکتا ہے، تاہم یہ فی الحال موسمیاتی پیش گوئی ہے، حتمی نتیجہ نہیں۔

ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی کیفیت ہے جس میں استوائی بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں کی سطح پر سمندری پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔ اس تبدیلی کا اثر ہوا کے دباؤ، ہواؤں کی سمت اور بارشوں کی تقسیم پر پڑتا ہے۔ بعض خطوں میں خشک سالی کے خدشات بڑھ سکتے ہیں جبکہ دوسرے علاقوں میں غیر معمولی بارشیں اور سیلاب کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے پوری دنیا میں ایک ہی طرح کے موسم کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے ماہانہ موسمیاتی جائزے کے مطابق اکتوبر، نومبر اور دسمبر کے دوران وسطی اور مشرقی استوائی بحرالکاہل کی سطح کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔ ادارے نے بتایا کہ اس پیش گوئی کی تیاری میں 13 بڑے قومی اور بین الاقوامی موسمیاتی مراکز کے جائزوں کو شامل کیا گیا۔ ادارے کی سربراہ سیلسٹے ساؤلو نے کہا کہ ایل نینو پوری طرح قائم ہو چکا ہے اور تیزی سے طاقت پکڑ رہا ہے۔

تنظیم کے مطابق فروری 2027 تک اس کیفیت کے برقرار رہنے کا امکان تقریباً یقینی درجے کے قریب ہے۔ سمندر کی سطح کے درجہ حرارت کا متعلقہ اشاریہ جون میں معمول سے 1.6 درجے سینٹی گریڈ بلند تھا جو اگست میں 2.5 درجے تک پہنچ گیا۔ اکتوبر سے دسمبر کی مدت کے لیے اس فرق کے تقریباً 3.7 درجے سینٹی گریڈ تک بڑھنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اگر یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی تو یہ مشاہدات کے موجودہ ریکارڈ سے بھی زیادہ سطح ہو گی۔

موسمیاتی تنظیم نے واضح کیا کہ ایل نینو زمین میں نئی حرارت پیدا نہیں کرتا، بلکہ سمندر میں موجود حرارت کی تقسیم اور اخراج کو متاثر کرتا ہے۔ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ اس کا امتزاج گرمی کی شدت اور موسم کے خطرات بڑھا سکتا ہے۔ ادارے نے متعلقہ حکومتوں اور موسمیاتی خدمات کے لیے اس جائزے کو پیشگی تیاری میں اہم قرار دیا ہے۔ کسی مخصوص پاکستانی شہر یا ضلع میں یقینی سیلاب یا خشک سالی کی پیش گوئی اس عالمی بیان سے اخذ نہیں کی جا سکتی۔