ہوانا: انتہائی طاقتور سمندری طوفان میلیسا کیوبا کے ساحلی علاقے سے ٹکرا گیا ہے، جس کے بعد شدید بارش، خطرناک ہواؤں، ساحلی طغیانی اور سیلاب کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کیوبا کے حکام نے طوفان کی آمد سے قبل خطرے سے دوچار علاقوں میں بڑے پیمانے پر انخلا اور ہنگامی تیاریوں کا آغاز کیا تھا۔
میلیسا بحیرہ کیریبین میں تیزی سے طاقتور ہونے والے طوفانوں میں شامل ہے اور اس نے خطے کے مختلف جزیروں کو متاثر کرنے کے بعد کیوبا کا رخ کیا۔ موسمیاتی اداروں نے خبردار کیا کہ طوفان کے مرکز کے قریب انتہائی تیز ہوائیں عمارتوں، بجلی کے نظام، درختوں اور مواصلاتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں موسلا دھار بارش سے اچانک سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
کیوبا میں حکام نے ساحلی اور نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات اور سرکاری پناہ گاہوں کی طرف منتقل کیا۔ بجلی اور مواصلات کے ممکنہ تعطل کے پیش نظر ہنگامی ٹیموں کو تیار رکھا گیا ہے۔ طوفان کے دوران ابتدائی نقصان کی اطلاعات محدود رہتی ہیں کیونکہ شدید موسم امدادی کارکنوں اور صحافیوں کی رسائی متاثر کر سکتا ہے، اس لیے جانی اور مالی نقصان کی مکمل تصویر موسم بہتر ہونے کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔
کیریبین خطہ بحر اوقیانوس کے سمندری طوفانوں کے موسم میں بار بار شدید موسمی نظاموں کی زد میں آتا ہے۔ گرم سمندری پانی طوفانوں کو توانائی فراہم کرتا ہے اور بعض حالات میں ان کی شدت بہت تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ سائنس دان طویل عرصے سے خبردار کرتے آئے ہیں کہ گرم ہوتی آب و ہوا انتہائی بارش اور شدید طوفانوں سے منسلک خطرات کو بڑھا سکتی ہے، اگرچہ کسی ایک طوفان کی شدت کو براہ راست صرف ایک عامل سے منسوب کرنا درست نہیں ہوتا۔
کیوبا کی معیشت پہلے ہی توانائی، ایندھن اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل سے دوچار ہے، جس کی وجہ سے بڑے طوفان کے بعد بجلی کی بحالی، سڑکوں کی مرمت اور متاثرہ آبادی تک امداد پہنچانا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔ حکام کی فوری ترجیح لوگوں کی جان بچانا، سیلاب زدہ علاقوں سے دور رکھنا اور اہم تنصیبات کو محفوظ بنانا ہے۔
میلیسا کے گزرنے کے بعد نقصان کے سروے سے واضح ہوگا کہ رہائشی علاقوں، زرعی زمین، بجلی کے نظام اور ساحلی بنیادی ڈھانچے کو کتنی تباہی ہوئی۔ اس وقت تک ابتدائی اندازوں کو حتمی اعداد و شمار نہیں سمجھا جا سکتا اور سرکاری ہنگامی اداروں کی تازہ معلومات بنیادی حوالہ رہیں گی۔

