اسلام آباد: برطانوی ہائی کمیشن اسلام آباد نے کہا ہے کہ پاکستان کے 10 کاروبار، جو موسمیاتی تبدیلی سے متعلق عملی حل پر کام کر رہے ہیں، آئندہ 12 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 51 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ یہ کمپنیاں برطانوی حکومت کی معاونت سے چلنے والے ایک پروگرام میں شامل رہیں، جس کا مقصد انہیں سرمایہ کاری کے لیے تیار کرنا اور ممکنہ سرمایہ کاروں کے سامنے اپنے کاروباری منصوبے پیش کرنے میں مدد دینا تھا۔
برطانوی ہائی کمیشن کے 2 نومبر کے بیان کے مطابق یہ کاروبار ایسے شعبوں میں کام کرتے ہیں جہاں پاکستان کو موسمیاتی خطرات کے ساتھ معاشی مواقع بھی درپیش ہیں۔ پروگرام کے ذریعے کاروباری اداروں کو مالیاتی تیاری، سرمایہ کاروں سے رابطے اور اپنی توسیعی حکمت عملی بہتر انداز میں پیش کرنے کے لیے خصوصی معاونت فراہم کی گئی۔ 51 ملین ڈالر کا عدد مطلوبہ یا ہدفی سرمایہ کاری کو ظاہر کرتا ہے؛ اسے پہلے سے حاصل شدہ یا منظور شدہ فنڈنگ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، شدید موسم، پانی کے دباؤ اور توانائی و وسائل کے مؤثر استعمال جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں نجی شعبے کی وہ کمپنیاں جو صاف توانائی، وسائل کی بچت، موسمیاتی موافقت یا متعلقہ ٹیکنالوجی پر کام کرتی ہیں، مقامی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ نئی سرمایہ کاری کی طلب بھی پیدا کر سکتی ہیں۔ تاہم کسی بھی کمپنی کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کامیابی اس کے کاروباری ماڈل، مالی کارکردگی، مارکیٹ، سرمایہ کار کی جانچ پڑتال اور معاہدے کی شرائط پر منحصر ہوگی۔
برطانوی حکومت نے اس اقدام کو پاکستان میں عملی موسمیاتی حل کی توسیع اور نجی سرمایہ متحرک کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس نوعیت کی معاونت براہ راست سرکاری گرانٹ کے مترادف نہیں ہوتی بلکہ کاروباروں کو نجی یا ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے سامنے زیادہ مؤثر انداز میں پیش ہونے میں مدد دیتی ہے۔
اعلان کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی منصوبوں کے لیے درکار سرمایہ اور دستیاب مالی وسائل کے درمیان بڑا فرق موجود ہے۔ نجی سرمایہ کاری اس خلا کا مکمل متبادل نہیں، لیکن قابلِ توسیع تجارتی حل میں سرمایہ لانے کا ایک ذریعہ بن سکتی ہے۔ موجودہ مرحلے پر تصدیق شدہ بات یہ ہے کہ 10 کاروبار مجموعی طور پر 51 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری تلاش کر رہے ہیں اور انہیں برطانوی حکومت کی خصوصی معاونت ملی ہے؛ آئندہ سرمایہ کاری کے معاہدوں کی تعداد اور مالیت الگ تجارتی فیصلوں سے طے ہوگی۔

