لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور میں نومبر کے آغاز کے ساتھ فضائی آلودگی اور سموگ کی شدت خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے، جس کے باعث شہریوں کے لیے صحت کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق شہر کے مختلف حصوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس اور باریک آلودہ ذرات کی سطح صحت مند حدود سے نمایاں طور پر اوپر ریکارڈ کی گئی، جبکہ موسم کی ایسی صورتحال آلودگی کو زمین کے قریب برقرار رکھنے میں مدد دے رہی ہے۔
فضائی آلودگی میں PM2.5 کہلانے والے انتہائی باریک ذرات خاص تشویش کا باعث ہوتے ہیں کیونکہ یہ سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں گہرائی تک داخل ہو سکتے ہیں۔ طویل یا شدید نمائش دمہ، سانس کی تکالیف اور دل و پھیپھڑوں کے امراض کے خطرات بڑھا سکتی ہے۔ بچے، بزرگ، حاملہ خواتین اور پہلے سے سانس یا قلبی بیماری رکھنے والے افراد زیادہ حساس سمجھے جاتے ہیں۔
لاہور اور وسطی پنجاب میں سرد موسم کے آغاز پر سموگ کئی عوامل کے امتزاج سے شدت اختیار کرتی ہے۔ گاڑیوں اور صنعتوں کا دھواں، گردوغبار، بعض زرعی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والا دھواں اور موسمی inversion جیسے عوامل آلودہ ذرات کو فضا کی نچلی تہہ میں روک سکتے ہیں۔ ہوا کی رفتار کم ہونے اور بارش نہ ہونے کی صورت میں آلودگی کئی دن تک جمع رہ سکتی ہے۔
صوبائی حکام گزشتہ برسوں میں صنعتی اخراج، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں، تعمیراتی گرد اور فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف اقدامات کرتے رہے ہیں۔ تاہم کسی ایک دن کے فضائی معیار میں بہتری یا خرابی متعدد مقامی اور علاقائی عوامل پر منحصر ہوتی ہے۔ اسی لیے سموگ کا مسئلہ صرف ایک شعبے کی کارروائی سے حل ہونے کے بجائے ٹرانسپورٹ، صنعت، توانائی، شہری منصوبہ بندی اور زرعی انتظام میں مسلسل اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔
شدید آلودگی کے دوران ماہرین عام طور پر غیر ضروری بیرونی جسمانی سرگرمی محدود کرنے، کھڑکیوں اور دروازوں کے ذریعے دھوئیں کی آمد کم کرنے اور حساس افراد کو اضافی احتیاط کی ہدایت کرتے ہیں۔ مناسب فلٹریشن اور درست طور پر پہنا ہوا ذرات روکنے والا ماسک بیرونی PM2.5 کی نمائش کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، اگرچہ یہ شہر کی مجموعی آلودگی کا متبادل حل نہیں۔
لاہور میں موجودہ سموگ کی شدت آنے والے دنوں میں ہوا، درجہ حرارت، نمی اور بارش کے حالات کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہے۔ مستقل بہتری کے لیے اخراج کے بنیادی ذرائع میں کمی ضروری ہے، جبکہ فوری مرحلے پر صحت عامہ کی ہدایات، آلودگی کی قابل اعتماد نگرانی اور زیادہ متاثرہ آبادیوں کو بروقت انتباہ اہم رہیں گے۔
