کراچی: سندھ حکومت نے کاربن اخراج کی نگرانی اور موسمیاتی منصوبوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے ایک ڈیجیٹل کلائمیٹ رجسٹری اور ڈیش بورڈ تیار کرنے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ ڈان کے مطابق صوبائی سیکریٹری ماحولیات فیصل احمد عقیلی نے بتایا کہ پاکستان کے آئندہ قومی موسمیاتی اہداف، یعنی نیشنلی ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشنز 3.0، کے لیے سندھ کی سفارشات بھی تیار کر لی گئی ہیں۔
یہ تفصیلات کراچی میں ایک ورکشاپ کے دوران سامنے آئیں جس کا مقصد اقوام متحدہ کے موسمیاتی فریم ورک کے تحت COP31 سے قبل ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لیے نئی سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔ ورکشاپ کراچی سینٹر فار کلائمیٹ چینج اور کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری نے مشترکہ طور پر منعقد کی۔
شرکا نے صاف پانی تک رسائی، زرعی زمین اور باغات کی بحالی، صنعتی آلودگی اور کاربن اخراج میں کمی، الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور کاربن منصوبوں میں شفافیت سمیت مختلف اقدامات پر گفتگو کی۔ مجوزہ ڈیجیٹل رجسٹری کا بنیادی تصور یہ ہے کہ صوبے میں موسمیاتی منصوبوں اور اخراج سے متعلق معلومات کو زیادہ منظم انداز میں جمع اور مانیٹر کیا جا سکے، جبکہ ڈیش بورڈ پالیسی سازوں اور متعلقہ اداروں کو پیش رفت دیکھنے میں مدد دے۔
کاربن منصوبوں کے لیے قابلِ اعتماد ڈیٹا خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اخراج میں کمی کے دعووں، سرمایہ کاری اور ممکنہ کاربن مارکیٹ سرگرمیوں کے لیے پیمائش اور تصدیق ضروری ہوتی ہے۔ ڈیجیٹل نظام اس عمل میں شفافیت بڑھا سکتا ہے، لیکن اس کی افادیت ڈیٹا کے معیار، رپورٹنگ کے یکساں اصولوں اور اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے پر منحصر ہوگی۔
صوبائی حکام کی جانب سے یہ پیش رفت موسمیاتی پالیسی اور سرمایہ کاری کو قابلِ پیمائش نتائج سے جوڑنے کی کوشش کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم رپورٹ میں رجسٹری اور ڈیش بورڈ کے مکمل آغاز کی حتمی تاریخ، لاگت یا تمام تکنیکی خصوصیات بیان نہیں کی گئیں۔ اس لیے موجودہ مرحلے کو تیاری اور ترقی کا عمل سمجھا جائے گا، نہ کہ مکمل طور پر فعال صوبائی نظام کا اعلان۔
