اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان میں ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے مختصر تربیتی سرگرمیوں سے آگے بڑھ کر مسلسل سائنسی تحقیق، عملی تجربات اور نوجوان محققین کی مالی معاونت پر مبنی نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے GIZ-SDPI گرین اسکلز ڈویلپمنٹ اقدام کے تحت منعقدہ تقریب سے خطاب میں کہا کہ حقیقی اختراع کے لیے تحقیق کو وسائل اور ادارہ جاتی تعاون سے جوڑنا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے ایک مجوزہ 'گرین یونیورسٹی' فریم ورک کا خاکہ پیش کیا جس کے تحت پاکستانی جامعات کو معروف بین الاقوامی اداروں کے ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کے تبادلے، مشترکہ تحقیق اور منظم تعلیمی شراکت داری سے منسلک کیا جا سکے۔ ان کے مطابق پاکستانی گریجویٹ طلبہ واضح تحقیقی اہداف اور مخصوص فنڈنگ کے ساتھ پروگراموں میں حصہ لے سکتے ہیں جبکہ بین الاقوامی ماہرین رہنمائی فراہم کریں۔
مصدق ملک نے گلیشیئر تحقیق کو ممکنہ تعاون کی ایک مثال قرار دیا اور کہا کہ قائداعظم یونیورسٹی کے محققین آرکٹک تحقیق کے معروف اداروں کے ساتھ مل کر گلیشیئرز اور ان سے وابستہ موسمیاتی خطرات پر کام کر سکتے ہیں۔ انہوں نے نوجوان اختراع کاروں کے لیے 10 ملین ڈالر کے مجوزہ فنڈ کا بھی ذکر کیا، جس کا مقصد طلبہ کو نئے خیالات تیار اور آزمانے کے لیے مالی وسائل دینا ہے۔
وزیر نے اسموگ، غیر محفوظ پینے کے پانی اور موسمیاتی آفات کو ایسے مسائل قرار دیا جن کے لیے پاکستان کو مقامی طور پر تیار کردہ ٹیکنالوجی درکار ہے۔ انہوں نے بجلی کاری، بیٹری ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو بھی ایسے شعبوں میں شمار کیا جہاں نئی تحقیق توانائی کے نظام اور ماحولیاتی کارکردگی بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔
انہوں نے جامعات اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ کامیابی کو صرف ورکشاپس یا تربیتی نشستوں کی تعداد سے نہ ناپا جائے بلکہ سائنسی اشاعتوں، قابل استعمال ٹیکنالوجی اور حقیقی مسائل کے قابل پیمائش حل کو اہمیت دی جائے۔ 10 ملین ڈالر فنڈ اور گرین یونیورسٹی فریم ورک فی الحال وزیر کی پیش کردہ تجاویز ہیں؛ دستیاب رپورٹ میں ان کے لیے حتمی بجٹ منظوری یا نفاذ کا باقاعدہ شیڈول بیان نہیں کیا گیا۔

