ناسا کے سیٹلائٹ ڈیٹا کے ایک تجزیے کے مطابق اکتوبر 2026 کے پہلے 29 دنوں میں پاکستانی پنجاب میں آگ کے مقامات کی تعداد بھارتی پنجاب کے مقابلے میں تقریباً 4.2 گنا رہی۔ ماحولیاتی نگرانی کے پلیٹ فارم ہماری ہوا کی جانب سے ناسا کے فائر انفارمیشن فار ریسورس مینجمنٹ سسٹم کے ڈیٹا کے تجزیے میں پاکستانی پنجاب میں 13,241 جبکہ بھارتی پنجاب میں 3,158 فائر اسپاٹس ریکارڈ کیے گئے۔

تجزیہ Suomi NPP، NOAA-20 اور NOAA-21 سیٹلائٹس پر نصب VIIRS آلات سے حاصل شدہ معلومات پر مبنی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی پنجاب میں شناخت کیے گئے فائر اسپاٹس میں سے تقریباً 92 فیصد زرعی زمین پر واقع تھے اور انہیں ممکنہ طور پر فصلوں کی باقیات جلانے سے منسلک کیا گیا۔ سیٹلائٹ سے آگ کی موجودگی کی شناخت براہ راست ہر واقعے کی انسانی وجہ ثابت نہیں کرتی، اس لیے فصل جلانے سے تعلق کو تجزیاتی نسبت کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔

اعداد و شمار میں ننکانہ صاحب، اوکاڑہ اور گوجرانوالہ زیادہ متاثرہ اضلاع میں شامل بتائے گئے ہیں۔ یہ نتائج ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پنجاب میں موسمی سموگ اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے صوبائی ادارے مختلف انتظامی اقدامات کر رہے ہیں۔ فصلوں کی باقیات جلانا فضائی آلودگی کے متعدد ذرائع میں سے ایک ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ، صنعت، تعمیراتی گرد اور دیگر اخراج بھی مجموعی فضائی معیار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

صوبائی حکام کے مطابق ماحولیاتی ضوابط کے نفاذ کے دوران 333 سموگ نوٹس جاری کیے گئے، 15 مقدمات درج ہوئے اور مجموعی طور پر 28 ملین روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ پلاسٹک جلانے کے خلاف 6,064 معائنے کیے گئے، 152 مقامات سیل ہوئے اور 45,100 کلوگرام پلاسٹک ضبط کیا گیا۔ صنعتی یونٹس میں سکشن ہڈز کی تنصیب کی نگرانی کے لیے 4,204 یونٹس کا معائنہ کیا گیا اور عدم تعمیل پر 333 مقامات سیل کیے گئے۔

زرعی علاقوں میں پنجاب حکومت نے سیٹلائٹ فائر ڈیٹیکشن اور زمینی نگرانی کے ذریعے فصلوں کی باقیات جلانے کی شناخت اور روک تھام کے لیے 67 کوئیک رسپانس یونٹس تعینات کیے ہیں۔ ڈرونز، خصوصی نائٹ اسکواڈز اور فیلڈ ٹیمیں بھی استعمال کی جا رہی ہیں۔ تازہ سیٹلائٹ اعداد و شمار اس چیلنج کی شدت کی نشاندہی کرتے ہیں اور اس امر پر زور دیتے ہیں کہ نفاذی کارروائیوں کے ساتھ زرعی باقیات کے متبادل انتظام، کسانوں کے لیے عملی سہولت اور فضائی آلودگی کے دوسرے بڑے ذرائع پر بھی مسلسل کام درکار ہے۔