لاہور: اکتوبر کے پہلے 29 دنوں کے دوران پاکستانی پنجاب میں سیٹلائٹ کے ذریعے آگ کے مقامات کی نشاندہی بھارتی پنجاب کے مقابلے میں 4.2 گنا زیادہ رہی، ایسے وقت میں جب صوبہ سموگ اور فضائی آلودگی کے شدید دباؤ سے گزر رہا ہے۔ ڈان کے مطابق ماحولیاتی نگرانی کی ویب سائٹ ہماری ہوا کے تجزیے میں ناسا کے سیٹلائٹ ڈیٹا استعمال کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق یکم سے 29 اکتوبر کے دوران پاکستانی پنجاب میں 13,241 فائر اسپاٹس ریکارڈ ہوئے، جبکہ بھارتی پنجاب میں اسی مدت کے دوران 3,158 مقامات کی نشاندہی ہوئی۔ تجزیے میں بتایا گیا کہ پاکستانی پنجاب میں ریکارڈ کیے گئے 92 فیصد فائر اسپاٹس زرعی زمین پر واقع تھے اور ان کا تعلق ممکنہ طور پر فصلوں کی باقیات جلانے سے تھا۔ سیٹلائٹ پر آگ کی نشاندہی کو ہر صورت حتمی قانونی ثبوت نہیں سمجھا جاتا، لیکن وسیع پیمانے کے رجحان کی نگرانی کے لیے یہ اہم اشاریہ ہے۔
اعداد و شمار ناسا کے فائر انفارمیشن فار ریسورس مینجمنٹ سسٹم یعنی FIRMS سے لیے گئے، جو Suomi NPP، NOAA-20 اور NOAA-21 سیٹلائٹس پر نصب VIIRS آلات کی پیمائش استعمال کرتا ہے۔ ضلع وار صورتحال میں ننکانہ صاحب، اوکاڑہ اور گوجرانوالہ زیادہ متاثرہ علاقوں میں سامنے آئے۔ یہ جغرافیائی پھیلاؤ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ فصلوں کی باقیات جلانے کا مسئلہ کسی ایک ضلع تک محدود نہیں۔
صوبائی حکام نے سموگ کے خلاف مختلف کارروائیوں کی تفصیل بھی جاری کی ہے۔ ڈان کے مطابق 333 سموگ نوٹس جاری کیے گئے، 15 مقدمات درج ہوئے اور مجموعی طور پر 2 کروڑ 80 لاکھ روپے جرمانے عائد کیے گئے۔ پلاسٹک جلانے کے خلاف 6,064 معائنے کیے گئے، 152 مقامات سیل کیے گئے اور 45,100 کلوگرام پلاسٹک ضبط کیا گیا۔ صنعتی یونٹس میں سکشن ہڈز کی تنصیب اور تعمیراتی دھول کے خلاف بھی نگرانی جاری رہی۔
زرعی علاقوں میں پنجاب حکومت نے سیٹلائٹ پر آگ کی نشاندہی کے بعد فوری فیلڈ ردعمل کے لیے 67 کوئیک رسپانس یونٹس تعینات کیے ہیں، جبکہ ڈرونز، رات کی خصوصی ٹیموں اور دیگر فیلڈ عملے کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار سے واضح ہے کہ نفاذی اقدامات کے باوجود فصلوں کی باقیات جلانے کا مسئلہ نمایاں سطح پر موجود ہے، جس کے باعث سموگ کے موسم میں مقامی اخراج کو کم کرنا صوبائی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا ماحولیاتی چیلنج ہے۔
