اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو قدرتی آفات کے بعد امدادی ردعمل پر انحصار کرنے کے بجائے خطرات کی پیشگی شناخت اور نقصان کی روک تھام پر مبنی نظام کی طرف بڑھنا چاہیے۔ ڈان کے مطابق انہوں نے اس مقصد کے لیے خلائی ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ تصاویر، ریڈار، ہائپر اسپیکٹرل ڈیٹا، مصنوعی ذہانت اور جدید پیش گوئی کے ماڈلز کے استعمال کو اہم قرار دیا۔

وزیر نے یہ بات سپارکو کی میزبانی میں منعقدہ پانچ روزہ اقوام متحدہ/پاکستان بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کانفرنس کا موضوع 'ارلی وارننگ فار آل، کلائمیٹ ایکشن اور ڈیزاسٹر رسک اسیسمنٹ کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال' تھا۔ مصدق ملک نے کہا کہ سائنسی معلومات اسی وقت مؤثر ثابت ہوتی ہیں جب انہیں بروقت عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے اور خطرہ تباہی بننے سے پہلے متعلقہ ادارے مداخلت کر سکیں۔

پاکستان کو حالیہ برسوں میں سیلاب، شدید بارشوں، گرمی کی لہروں، خشک سالی، گلیشیائی خطرات اور شہری موسمیاتی دباؤ جیسے متعدد مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ایسے حالات میں سیٹلائٹ اور زمینی مشاہدات کو یکجا کرکے خطرے کی جگہ، شدت اور ممکنہ اثرات کا جلد اندازہ لگانا حکومتی تیاری میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم ٹیکنالوجی کی دستیابی بذاتِ خود مؤثر تحفظ کی ضمانت نہیں؛ مقامی اداروں تک بروقت انتباہ، قابلِ عمل ہدایات اور ردعمل کی صلاحیت بھی ضروری رہتی ہے۔

کانفرنس میں پیش کیا گیا نقطۂ نظر اس بات پر زور دیتا ہے کہ پاکستان کا ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام صرف ہنگامی امداد تک محدود نہ رہے بلکہ خطرات کی نقشہ بندی، پیشگی اطلاع، منصوبہ بندی اور روک تھام کو پالیسی کا بنیادی حصہ بنایا جائے۔ مصنوعی ذہانت اور پیش گوئی کے ماڈلز تاریخی اور تازہ ڈیٹا میں ایسے رجحانات شناخت کر سکتے ہیں جو روایتی طریقوں سے فوری طور پر واضح نہ ہوں، مگر ان نتائج کی درستگی معیاری ڈیٹا اور انسانی نگرانی سے وابستہ ہوتی ہے۔

وفاقی وزیر کی گفتگو پالیسی سمت کی وکالت ہے؛ رپورٹ میں کسی نئے قومی نظام کے فوری نفاذ، بجٹ یا لازمی ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اگلا اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ وفاقی اور صوبائی ادارے ان تکنیکی امکانات کو عملی منصوبوں، مشترکہ ڈیٹا نظام اور مقامی سطح کے قابلِ اعتماد ابتدائی انتباہی طریقہ کار میں کس طرح تبدیل کرتے ہیں۔