کراچی: کارانداز پاکستان نے گرین کلائمیٹ فنڈ سے ڈائریکٹ ایکسس ایکریڈیٹیشن حاصل کر لی ہے، جس کے بعد ادارے کے لیے پاکستان میں موسمیاتی منصوبوں کے لیے بین الاقوامی کلائمیٹ فنانس تک براہ راست رسائی، مختلف مالی وسائل کو یکجا کرنے اور انہیں مقامی منصوبوں میں منتقل کرنے کا باقاعدہ راستہ کھل گیا ہے۔ یہ منظوری گرین کلائمیٹ فنڈ کے بورڈ کے 46ویں اجلاس میں سونگڈو، جنوبی کوریا میں دی گئی۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق نئی حیثیت کارانداز کو گرین کلائمیٹ فنڈ کے عالمی ڈائریکٹ ایکسس اداروں کے نیٹ ورک میں شامل کرتی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ وہ اس رسائی کو پاکستان کے نیشنللی ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشنز، نیشنل ایڈاپٹیشن پلان اور گرین ٹیکسانومی سے ہم آہنگ منصوبوں کے لیے استعمال کرے گا۔ اس کا مقصد عالمی موسمیاتی سرمائے کو مقامی ترجیحات، کاروباری ضروریات اور پاکستان کے موسمیاتی خطرات کے مطابق ڈھالنا ہے۔
ڈائریکٹ ایکسس ایکریڈیٹیشن کا مطلب یہ نہیں کہ کسی مخصوص منصوبے کے لیے فوری طور پر کوئی طے شدہ رقم پاکستان کو مل گئی ہے۔ یہ ادارہ جاتی منظوری کارانداز کو گرین کلائمیٹ فنڈ کے سامنے پروگرام اور منصوبے تیار کرکے مالی معاونت حاصل کرنے کی اہلیت دیتی ہے۔ ہر منصوبے کی فنانسنگ متعلقہ تجویز، جانچ، منظوری اور فنڈ کی شرائط سے مشروط ہوگی۔
کارانداز نے کہا ہے کہ وہ نجی سرمایہ متحرک کرنے، موسمیاتی منصوبوں کے سرمایہ کاری خطرات کم کرنے اور ایسے کاروباروں کی مدد پر توجہ دے گا جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ادارہ گزشتہ ایک دہائی میں گروتھ ایکویٹی، قرض اور بلینڈڈ فنانس کے ذریعے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے وسائل کی فراہمی پر کام کرتا رہا ہے، جن میں توانائی کی بچت، صاف توانائی اور موسمیاتی مزاحمت بڑھانے والے منصوبے شامل ہیں۔
گرین کلائمیٹ فنڈ کی ڈپارٹمنٹ آف انویسٹمنٹ سروسز کی ڈائریکٹر اچالا ابے سنگھے کے مطابق کارانداز کی مقامی مالیاتی منڈیوں سے واقفیت پاکستان میں کم اخراج اور موسمیاتی مزاحمت سے متعلق کاروباروں اور مالیاتی اداروں تک کلائمیٹ فنانس بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔ کارانداز کے چیف ایگزیکٹو وقاص الحسن نے ایکریڈیٹیشن کو ادارے اور پاکستان میں گرین فنانسنگ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔
پاکستان کو سیلاب، گرمی، پانی کے دباؤ اور دیگر موسمیاتی خطرات کے باعث بڑے پیمانے پر موافقت اور کم اخراج والی سرمایہ کاری درکار ہے۔ بین الاقوامی فنڈز تک براہ راست ادارہ جاتی رسائی سے مقامی ضروریات کے مطابق منصوبے تیار کرنے کی گنجائش بڑھ سکتی ہے، تاہم عملی اثر کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کارانداز کتنے قابل عمل منصوبے تیار کرتا ہے، گرین کلائمیٹ فنڈ سے کتنی مالی منظوری حاصل ہوتی ہے اور نجی سرمایہ کس حد تک ساتھ آتا ہے۔
