ویانا: اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے کے 35 رکنی بورڈ آف گورنرز نے ایران کی جوہری عدم پھیلاؤ ذمہ داریوں سے متعلق معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو رپورٹ کرنے کی قرارداد منظور کر لی ہے۔ سفارت کاروں کے مطابق تقریباً 20 سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایران کے خلاف اس نوعیت کی رپورٹ سلامتی کونسل کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی پیش کردہ قرارداد کے حق میں 23 ووٹ آئے، روس، چین اور نائجر نے مخالفت کی جبکہ آٹھ ممالک نے رائے شماری میں حصہ لیتے ہوئے ووٹ نہیں دیا۔ قرارداد میں آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل سے کہا گیا ہے کہ موجودہ اور متعلقہ سابقہ قراردادیں ایجنسی کے رکن ممالک، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کو رپورٹ کی جائیں۔

یہ اقدام جون 2025 کی اس قرارداد کے بعد سامنے آیا ہے جس میں آئی اے ای اے بورڈ نے ایران کو عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں کی تعمیل نہ کرنے کا مرتکب قرار دیا تھا۔ اس پرانے تنازع کا تعلق ان غیر اعلانیہ مقامات پر یورینیم کے آثار کی وضاحت سے ہے جن کی ایجنسی کئی برس سے تحقیقات کر رہی تھی۔ ایران نے مغربی ممالک کے مؤقف کو سیاسی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ موجودہ بحران امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔

دوسری جانب حالیہ جنگ کے بعد ایک نیا تنازع ان جوہری مقامات تک معائنہ کاروں کی رسائی سے متعلق ہے جنہیں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں نقصان پہنچا۔ آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ادارہ متاثرہ تنصیبات اور وہاں موجود جوہری مواد کی مکمل تصدیق نہیں کر پا رہا، جو عدم پھیلاؤ کے اعتبار سے سنگین تشویش ہے۔ ایران نے بمباری سے متاثرہ اہم افزودگی مراکز تک معائنہ کاروں کو واپس جانے کی اجازت نہیں دی۔

آئی اے ای اے کے تخمینے کے مطابق حملوں سے پہلے ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ تقریباً 440.9 کلوگرام یورینیم تھا۔ اس ذخیرے کی موجودہ حالت پوری طرح واضح نہیں۔ ایران مسلسل کہتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ سلامتی کونسل میں روس اور چین کے ویٹو اختیار کے باعث فوری سخت کارروائی یقینی نہیں، تاہم نئی قرارداد تہران اور مغربی طاقتوں کے درمیان سفارتی کشیدگی میں واضح اضافہ ہے۔