ریاض: یمن کے ایران سے منسلک حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہروں ابہا، خمیس مشیط اور جازان کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق یہ مسلسل دوسرا دن تھا جب مملکت پر ایسے حملے کیے گئے۔ اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا کہ حملوں میں سعودی قومی اثاثوں اور بنیادی ڈھانچے کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔

سعودی سول ڈیفنس نے بدھ کو خمیس مشیط اور ابہا میں جاری انتباہات بعد میں ختم کر دیے۔ ایک روز قبل حوثی حملوں میں خمیس مشیط اور قریبی شہروں میں 73 افراد زخمی ہوئے تھے اور تیل کی تنصیبات میں آگ لگنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ منگل کے حملوں میں خمیس مشیط کا ایک فضائی اڈہ اور جنوبی علاقے میں توانائی کا بنیادی ڈھانچہ بھی نشانہ بنا تھا، جسے حالیہ برسوں میں سعودی عرب پر بڑے حوثی حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

ترکی المالکی نے کہا کہ اتحاد سعودی خودمختاری، قومی اثاثوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ’ذمہ دارانہ‘ انداز میں جواب دے گا۔ تاہم اس بیان میں کسی مخصوص آئندہ فوجی کارروائی کی تفصیل نہیں دی گئی۔ دوسری طرف حوثیوں کا مؤقف ہے کہ ان کے حملے یمن میں سعودی کارروائیوں کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔ دونوں فریق ایک دوسرے کو کشیدگی بڑھانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں حالیہ مہینوں کے دوران اضافہ ہوا ہے، جس سے 2022 کی اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد نسبتاً کم ہونے والی وسیع جنگ دوبارہ بھڑکنے کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔ سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد کی قیادت کرتا ہے، جبکہ حوثیوں نے تقریباً 12 سال قبل دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر کے حکومت کو جنوب کی طرف دھکیل دیا تھا۔

حوثی ذرائع ابلاغ نے اپنے زیر انتظام وزارت صحت کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کے الجوف میں دو روز کے سعودی حملوں میں کم از کم 32 افراد ہلاک ہوئے۔ سعودی عرب نے ان مخصوص حملوں کی تصدیق نہیں کی، اس لیے ہلاکتوں کے اعداد کو حوثی حکام کے دعوے کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔ تازہ کشیدگی اب امریکا اور ایران کے وسیع تر علاقائی تصادم کے ساتھ جڑ کر بحیرہ احمر اور خلیجی توانائی رسد کے لیے بھی خطرات بڑھا رہی ہے۔