اوسلو/چیسیناؤ: ناروے کے وزیراعظم جوناس گاہر سٹور نے کہا ہے کہ یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی کو ناروے لے جانے والا طیارہ مالدووا سے روانگی کے وقت ایک ڈرون سے تقریباً ٹکرا گیا تھا۔ زیلنسکی منگل کو مالدووا سے اوسلو جا رہے تھے، تاہم ڈرون الرٹ کے بعد مالدووا کے حکام نے عارضی طور پر فضائی حدود بند کر دی تھیں جس سے ان کی پرواز میں تاخیر ہوئی۔

ناروے کے وزیراعظم نے سرکاری نشریاتی ادارے این آر کے سے گفتگو میں کہا کہ زیلنسکی کے طیارے کو اڑان کے وقت ڈرون سے قریب خطرہ پیش آیا۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ معلومات کس ذریعے سے حاصل ہوئیں یا ڈرون طیارے سے کتنے فاصلے پر تھا۔ اسی لیے ’تقریباً ٹکرانے‘ کے دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی اور اسے ناروے کے وزیراعظم کے بیان کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔

مالدووا کی حکومت کے ترجمان نے تصدیق کی کہ ڈرون الرٹ کے باعث ملکی فضائی حدود بند کی گئی تھیں اور زیلنسکی کی روانگی مؤخر ہوئی۔ حکام کے مطابق پرواز کو اس وقت اجازت دی گئی جب یہ طے ہو گیا کہ ایک روسی ڈرون مالدووا کی حدود میں گر چکا ہے۔ منگل کو دو روسی ڈرون مالدووا کی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے، جس سے چیسیناؤ ہوائی اڈے کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور متعدد پروازوں کو متبادل ہوائی اڈوں کی طرف موڑنا یا فضا میں انتظار کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق ایک ڈرون کھیت میں گرا اور آگ لگ گئی جبکہ دوسرا رومانیہ کی فضائی حدود کی جانب چلا گیا۔ مالدووا کی صدر مایا ساندو نے ان دراندازیوں کو لوگوں کی جانوں کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ مالدووا کی حکومت کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے یوکرین پر فضائی حملوں میں شدت کے ساتھ اس کی فضائی حدود میں ڈرون داخل ہونے کے واقعات بھی بڑھے ہیں۔

زیلنسکی ناروے کے شاہ ہیرالڈ پنجم کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے اوسلو جا رہے تھے۔ انہوں نے ناروے کے وزیراعظم سے یوکرین کی فضائی دفاعی ضروریات اور فوجی معاونت پر بھی بات چیت کی۔ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب روسی میزائل اور ڈرون حملوں کے اثرات یوکرین کی سرحدوں سے باہر پڑوسی ممالک کی فضائی حدود اور شہری پروازوں کے نظام کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔