واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نطنز کے قریب واقع انتہائی محفوظ زیر زمین مقام ’پک ایکس ماؤنٹین‘ پر سرگرمی کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے ایسی کارروائی جاری رکھی جسے واشنگٹن خطرہ سمجھتا ہے تو امریکا سخت فوجی حملہ کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ وہ صورت حال کو مزید نہ آزمائے۔
پک ایکس ماؤنٹین کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہاں دو گہرے زیر زمین سرنگی کمپلیکس موجود ہیں اور یہ ایران کے نطنز یورینیم افزودگی مرکز کے قریب واقع ہے۔ نطنز کی تنصیبات امریکی اور اسرائیلی حملوں میں پہلے ہی شدید متاثر ہو چکی ہیں، جبکہ رائٹرز کے مطابق پک ایکس کے زیر زمین مقام کو اب تک براہ راست نشانہ نہیں بنایا گیا۔ ٹرمپ جولائی کے وسط سے اسے ممکنہ ہدف کے طور پر ذکر کرتے رہے ہیں۔
امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کے بیان میں مذکور ’سرگرمی‘ کی نوعیت کیا تھی یا امریکی انٹیلی جنس نے وہاں کس قسم کی تبدیلی ریکارڈ کی۔ ایران کا دیرینہ مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل ایران کی افزودگی کی صلاحیت اور زیر زمین تنصیبات کو ممکنہ جوہری ہتھیار سازی کے خطرے کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
یہ دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ نے خطے میں تیل اور گیس کی قیمتوں، بحری جہاز رانی اور سیاسی ماحول پر شدید اثر ڈالا ہے۔ ٹرمپ نے ایک روز قبل کہا تھا کہ ان کے خیال میں جنگ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد جلد ختم ہو سکتی ہے اور الزام لگایا کہ تہران نومبر کے انتخابات کے سیاسی نتائج پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے۔ ایران نے اس الزام کی تصدیق نہیں کی۔
28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے حملوں کے بعد شروع ہونے والے تنازع میں دونوں جانب میزائل، ڈرون اور بحری کارروائیاں ہو چکی ہیں۔ تازہ بیان سے جوہری تنصیبات کے گرد کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی ہے، مگر فی الحال پک ایکس ماؤنٹین پر کسی نئے امریکی حملے کا باقاعدہ حکم یا وقت سامنے نہیں آیا۔ اس لیے ٹرمپ کے الفاظ کو ایک دھمکی اور ممکنہ پالیسی اشارہ سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ مکمل شدہ فوجی کارروائی۔




