ڈلاس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر ریپبلکن پارٹی 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے تو ہر امریکی بالغ کو 5 ہزار ڈالر کا ’ٹرمپ ڈویڈنڈ‘ دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ وعدہ ڈلاس میں ریپبلکن پارٹی کے پہلے خصوصی مڈٹرم کنونشن سے خطاب کے دوران کیا، تاہم ادائیگی کے قانونی اختیار، فنڈنگ اور عملی طریقہ کار کی فوری وضاحت سامنے نہیں آئی۔
امریکا میں تقریباً 27 کروڑ بالغ افراد کی آبادی کو سامنے رکھا جائے تو اس وعدے کی مجموعی لاگت تقریباً 1.35 ٹریلین ڈالر بن سکتی ہے۔ رائٹرز کے مطابق یہ بھی واضح نہیں کہ صدر انتظامی اختیار کے ذریعے ایسی ادائیگی کر سکتے ہیں یا اس کے لیے کانگریس کی الگ منظوری اور بجٹ قانون سازی درکار ہوگی۔ اس لیے فی الحال اسے انتخابی وعدہ سمجھا جا رہا ہے، منظور شدہ سرکاری پروگرام نہیں۔
ٹرمپ نے ایک گھنٹہ 45 منٹ طویل خطاب میں اپنی صدارت کے پہلے دو برسوں کی کارکردگی کا دفاع کیا اور ووٹروں سے کہا کہ وہ وسط مدتی انتخاب میں انہیں بالواسطہ طور پر بیلٹ پر موجود سمجھیں۔ ریپبلکن حکمت عملی میں صدر کو مرکزی مقام دینے کا فیصلہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب رائے عامہ کے جائزوں میں مہنگائی، ایران کے ساتھ جنگ اور اخراجات سے متعلق تشویش کے باعث ان کی مقبولیت دباؤ میں بتائی جا رہی ہے۔
کئی ایسے ریپبلکن امیدوار جو سخت مقابلے والی نشستوں پر انتخاب لڑ رہے ہیں کنونشن میں شریک نہیں ہوئے، جبکہ کم از کم 16 مسابقتی ایوان نمائندگان اور سینیٹ نشستوں کے امیدواروں کو خطاب کے لیے شیڈول کیا گیا تھا۔ پارٹی کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ ٹرمپ کے پرجوش حامیوں کو متحرک رکھا جائے اور ساتھ ہی ان آزاد یا غیر یقینی ووٹروں کو بھی قائل کیا جائے جو صدر کی پالیسیوں سے ناراض ہو سکتے ہیں۔
دو روزہ کنونشن میں نائب صدر جے ڈی وینس بھی مرکزی خطاب کرنے والے ہیں اور ٹرمپ اختتامی کلمات دیں گے۔ 5 ہزار ڈالر کے مجوزہ ڈویڈنڈ کی مالی اور قانونی تفصیلات سامنے آنے تک یہ واضح نہیں کہ وعدہ کس ذریعے سے پورا کیا جا سکتا ہے یا کانگریس میں اسے مطلوبہ حمایت مل سکے گی۔




