انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی) نے پاکستان میں کام کرنے والے غیر ملکی تعلیمی اسناد جاری کرنے والے اداروں اور امتحانی بورڈز کی ریگولیٹری نگرانی مضبوط بنانے کے لیے نئے اقدامات شروع کیے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق اس سلسلے میں اسلام آباد میں آئی بی سی سی سیکریٹریٹ میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں طلبہ کے تحفظ، امتحانی معیار اور موجودہ ریگولیٹری فریم ورک کی پابندی کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں سرحد پار یا ٹرانس نیشنل تعلیم کے نظام پر توجہ دی گئی، بالخصوص ایسے غیر ملکی qualification-awarding اداروں پر جو پاکستان میں اپنے تدریسی یا امتحانی مراکز کے ذریعے پروگرام چلاتے ہیں۔ شرکا نے اس ضرورت پر زور دیا کہ طلبہ کو ایسی اسناد، امتحانات اور ادارہ جاتی انتظامات کے بارے میں واضح اور قابل اعتماد معلومات ملیں جن کی بنیاد پر وہ تعلیمی فیصلے کرتے ہیں۔

آئی بی سی سی نے ایک جامع quality assurance اور monitoring mechanism تیار کرنے پر غور کیا ہے۔ مجوزہ نظام میں غیر ملکی اداروں اور ان سے منسلک تدریسی و امتحانی مراکز کی ریگولیٹری تعمیل، ادارہ جاتی جواب دہی اور پاکستان میں دی جانے والی اسناد کی ساکھ کو جانچنے پر توجہ ہوگی۔ ابھی اس نظام کی مکمل تفصیلات یا نفاذ کی حتمی تاریخ جاری نہیں کی گئی، اس لیے اسے زیر تیاری ریگولیٹری اقدام سمجھا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا کہ آئی بی سی سی غیر ملکی qualification-awarding اداروں کو سہولت دینے کے ساتھ شفافیت، جواب دہی اور مقررہ معیار کی پابندی یقینی بنانا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق طلبہ کے مفادات کا تحفظ اور امتحانی نظام کی ساکھ کمیشن کی بنیادی ریگولیٹری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ مشاورتی عمل کے اگلے مرحلے میں آئی بی سی سی آئندہ ہفتے غیر ملکی اداروں کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس کرے گا۔

یہ ریگولیٹری اقدام ان غیر ملکی اداروں کا احاطہ کرتا ہے جو پاکستان میں سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ، ہائر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ یا ان کے مساوی لیول 3 qualifications فراہم کرتے ہیں۔ آئندہ مشاورت میں ضابطہ جاتی امور، اداروں کے درمیان رابطہ اور مجوزہ معیار بندی کے اقدامات زیر بحث آئیں گے۔ حتمی قواعد سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ نگرانی، معائنہ، رپورٹنگ اور خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کا عملی طریقہ کیا ہوگا۔