جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور مہنگائی کے خلاف اپنی احتجاجی مہم کے تیسرے مرحلے میں جمعہ کو مختلف مقامات پر دھرنے دینے کا اعلان کیا ہے۔ ڈان کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے پارٹی کارکنوں اور تنظیمی ذمہ داران کو ہدایت کی کہ احتجاج کو منظم انداز میں آگے بڑھایا جائے اور عوامی سطح پر پیٹرولیم قیمتوں اور ٹیکسوں کے اثرات کو اجاگر کیا جائے۔

حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کی توانائی اور ٹیکس پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پیٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایندھن کی قیمتیں نقل و حمل، بجلی، زرعی پیداوار اور روزمرہ اشیا کی لاگت پر اثر انداز ہوتی ہیں، اس لیے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس اور لیوی میں کمی ہونی چاہیے۔ یہ جماعت اسلامی کا سیاسی مؤقف ہے؛ حکومت کی مالیاتی پالیسی اور لیوی کی شرحیں وفاقی بجٹ، قانونی اختیارات اور محصولات کی ضروریات کے تحت طے ہوتی ہیں۔

پارٹی نے احتجاجی مہم کو مرحلہ وار ترتیب دیا ہے۔ تیسرے مرحلے میں دھرنوں کا اعلان اس سلسلے کی توسیع ہے، تاہم دستیاب رپورٹ میں ہر شہر، مقام اور دھرنے کے دورانیے کی مکمل فہرست نہیں دی گئی۔ مقامی تنظیمیں اپنے علاقوں میں انتظامات اور شرکت سے متعلق تفصیلات طے کریں گی۔

پاکستان میں پیٹرولیم لیوی وفاقی حکومت کے غیر ٹیکس محصولات کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ عالمی خام تیل کی قیمت، روپے کی قدر، درآمدی لاگت، ڈیلر اور مارکیٹنگ مارجن اور سرکاری ٹیکس و لیوی مل کر صارفین کے لیے حتمی قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اور کاروباری و ٹرانسپورٹ تنظیمیں وقتاً فوقتاً اس بوجھ میں کمی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

جماعت اسلامی کی اعلان کردہ سرگرمی سیاسی احتجاج ہے اور اس کے نتیجے میں حکومت کی پالیسی میں کسی تبدیلی کی ضمانت نہیں۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار احتجاج کے حجم، حکومت کے ردعمل اور پیٹرولیم قیمتوں و محصولات سے متعلق بعد کے فیصلوں پر ہوگا۔ کسی مقام پر ٹریفک یا معمولات متاثر ہونے کی صورت میں متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے انتظامات بھی اہم ہوں گے۔