میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی کمیشن نے سندھ حکومت کو سفارش کی ہے کہ معاملے کی مزید چھان بین کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے اور اس بات کی بھی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جائیں کہ آیا ابتدائی تفتیش میں کسی قسم کا کور اپ ہوا۔ ڈان کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کمیشن کی 62 صفحات پر مشتمل رپورٹ صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد محکمہ داخلہ نے عوام کے لیے جاری کردی ہے۔
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ کیس سے متعلق اہم جسمانی شواہد کا ایک حصہ ضائع یا متاثر ہو چکا ہے، جس کے باعث اب روایتی فرانزک طریقوں سے حتمی نتیجے تک پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔ اسی پس منظر میں رپورٹ نے انٹیلی جنس پر مبنی تحقیقات کو زیادہ مؤثر راستہ قرار دیتے ہوئے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنانے کی سفارش کی، جس میں انٹیلی جنس اداروں، رینجرز اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے نمائندوں کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
عدالتی کمیشن نے سندھ پولیس کی ابتدائی تفتیش اور شواہد سنبھالنے کے طریقہ کار پر سخت تنقید کی۔ رپورٹ میں اس بنیادی نکتے پر زور دیا گیا کہ موت خودکشی تھی یا قتل، دونوں صورتوں میں پولیس کی قانونی ذمہ داری تھی کہ معاملے کی مکمل، غیر جانب دار اور پیشہ ورانہ تحقیقات کی جاتیں۔ کمیشن نے بعض تفتیشی خامیوں کو عوامی اعتماد کے لیے نقصان دہ قرار دیا اور اسی اعتماد کی بحالی کو نئی مشترکہ تحقیقات کا اہم مقصد بتایا۔
رپورٹ میں ممکنہ کور اپ کی تحقیقات کی سفارش خود کسی فرد یا ادارے کے خلاف جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہے۔ یہ کمیشن کی جانب سے مزید تفتیش کی ضرورت کی نشاندہی ہے۔ اسی طرح میر رضا علی کی موت کو اس مرحلے پر قطعی طور پر قتل یا خودکشی قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا، کیونکہ کمیشن نے دستیاب شواہد کی کمزوری اور مزید انٹیلی جنس پر مبنی تحقیقات کی ضرورت واضح کی ہے۔
سندھ حکومت کے لیے اگلا اہم مرحلہ کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد اور جے آئی ٹی کی باضابطہ تشکیل ہوگا۔ اگر ٹیم قائم ہوتی ہے تو اسے دستیاب ڈیجیٹل ریکارڈ، رابطوں، گواہوں اور دیگر قابل حصول معلومات کی بنیاد پر ان سوالات کا جواب تلاش کرنا ہوگا جو ابتدائی تفتیش میں حل نہیں ہو سکے۔ کسی بھی حتمی فوجداری نتیجے کا انحصار نئی تحقیقات، شواہد اور بعد کی عدالتی کارروائی پر ہوگا۔
