برسلز: یورپی پارلیمان نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو 2026 کا سخاروف پرائز فار فریڈم آف تھاٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ یورپی یونین کا نمایاں انسانی حقوق اعزاز ہے اور پارلیمان نے عدالت کے بین الاقوامی قانون اور انصاف سے متعلق کردار کو اس انتخاب کی بنیاد قرار دیا۔ انعام کا اعلان ایسے وقت کیا گیا ہے جب آئی سی سی اور اس کے بعض عہدیداروں کو امریکا کی جانب سے پابندیوں اور شدید سیاسی تنقید کا سامنا ہے۔
یورپی پارلیمان کی صدر روبرٹا میٹسولا نے کہا کہ یورپی یونین کثیرالجہتی نظام اور بین الاقوامی اداروں کے احترام پر قائم ہے اور یہ اعزاز عدالت کے بین الاقوامی قانون کے نفاذ سے متعلق کام کا اعتراف ہے۔ آئی سی سی کی صدر ٹوموکو اکانے نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ غیر معمولی چیلنجز کے ماحول میں یہ اعزاز آزاد عدالتی اداروں کی اہمیت کی توثیق کرتا ہے۔
امریکی انتظامیہ نے رواں ماہ آئی سی سی کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ امریکا عدالت کے بعض اقدامات، خصوصاً اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف غزہ سے متعلق مبینہ جرائم پر جاری گرفتاری وارنٹ، کی سخت مخالفت کرتا رہا ہے۔ آئی سی سی کے وارنٹ کسی شخص کے جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتے؛ فوجداری ذمہ داری کا حتمی تعین عدالتی کارروائی اور قابل اطلاق قانونی معیار کے تحت ہوتا ہے۔
یورپی یونین پہلے بھی امریکی پابندیوں کے تناظر میں آئی سی سی کی حمایت کا اظہار کر چکی ہے اور عدالت کے کام کو بیرونی دباؤ سے بچانے کے ممکنہ قانونی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ سخاروف پرائز کی باضابطہ تقریب دسمبر میں متوقع ہے۔ آئی سی سی کے ساتھ تنزانیہ کے اپوزیشن رہنما ٹنڈو لیسو اور ایران میں مقدمات کا سامنا کرنے والی بہنیں ترانہ اور رومینا رحیمی بھی فائنلسٹ تھیں۔ اعزاز کا فیصلہ یورپی پارلیمان کے سینئر قانون سازوں نے کیا، تاہم یہ کسی زیر سماعت مقدمے یا آئی سی سی کے کسی مخصوص عدالتی فیصلے کی قانونی توثیق نہیں بلکہ ادارے کے مجموعی انسانی حقوق و بین الاقوامی انصاف کے کردار کا سیاسی و پارلیمانی اعتراف ہے۔

