سیول: شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ اپنی سخت فوجی نگرانی والی سرحد پر الرٹ کی سطح بڑھانے اور چند روز میں جنوبی کوریا مخالف نشریات کے لیے لاؤڈ اسپیکر تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پیانگ یانگ نے خبردار کیا ہے کہ جسے وہ سیول کی مداخلت قرار دیتا ہے اگر وہ جاری رہی تو جنوبی کوریا کو سنگین نتائج کا سامنا ہو سکتا ہے۔
رائٹرز کے حوالے سے ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بااثر بہن کم یو جونگ نے سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ ملک پوری جنوبی سرحد پر اپنی فوجی تیاری کی سطح بڑھائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مخالفانہ نشریات کے لیے لاؤڈ اسپیکر چند روز کے اندر سرحدی علاقوں میں نصب کیے جانے کے لیے تیار ہوں گے۔
بیان میں جنوبی کوریا پر مداخلت کا الزام لگایا گیا، تاہم تازہ انتباہ کو جن مخصوص اقدامات سے جوڑا گیا ان کی مکمل تفصیل فوری طور پر واضح نہیں کی گئی۔ دونوں کوریاؤں کے تعلقات پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہیں اور سرحدی پروپیگنڈا، فوجی مشقیں، نگرانی اور ڈی ملٹرائزڈ زون میں ہونے والے واقعات ماضی میں بارہا کشیدگی بڑھاتے رہے ہیں۔
تازہ تناؤ کے پس منظر میں 21 ستمبر کو ڈی ملٹرائزڈ زون میں بارودی سرنگ کے دھماکے کا واقعہ بھی شامل ہے جس میں تین جنوبی کوریائی فوجی زخمی ہوئے تھے، جن میں دو کی حالت سنگین بتائی گئی۔ جنوبی کوریا نے الزام عائد کیا تھا کہ بارودی سرنگیں شمالی کوریا نے جان بوجھ کر نصب کیں اور اس نے معافی کا مطالبہ کیا۔ پیانگ یانگ نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے سیول پر ذمہ داری منتقل کرنے کی کوشش کا الزام لگایا تھا۔
شمالی اور جنوبی کوریا تکنیکی طور پر اب بھی حالت جنگ میں ہیں کیونکہ 1950 سے 1953 تک جاری کوریائی جنگ امن معاہدے کے بجائے جنگ بندی کے معاہدے پر ختم ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے دونوں ملکوں کی سرحد دنیا کے سب سے زیادہ عسکری نوعیت کے علاقوں میں شمار ہوتی ہے اور معمولی فوجی واقعہ بھی بڑے سیاسی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔
شمالی کوریا کا تازہ اعلان فی الحال ایک سرکاری انتباہ اور مجوزہ جوابی اقدامات پر مشتمل ہے۔ بیان میں کسی فوری بڑے فوجی حملے کی تصدیق نہیں کی گئی، اس لیے مستقبل کے نتائج کے بارے میں قیاس آرائی سے گریز ضروری ہے۔ اصل صورتحال اس بات سے واضح ہوگی کہ اعلان کردہ فوجی الرٹ اور لاؤڈ اسپیکر تعیناتی کس حد تک عملی شکل اختیار کرتی ہے اور جنوبی کوریا اس کے جواب میں کیا اقدامات کرتا ہے۔
