لاہور/اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری جرمن صدر فرینک والٹر شٹائن مائر کی دعوت پر تین روزہ سرکاری دورے کے لیے جرمنی روانہ ہوگئے ہیں۔ ایوانِ صدر کے مطابق یہ دورہ 22 سے 24 اکتوبر تک جاری رہے گا اور گزشتہ 23 برس میں کسی پاکستانی سربراہِ مملکت کا جرمنی کا پہلا دورہ ہوگا۔ صدر ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کر رہے ہیں اور برلن میں جرمن قیادت اور کاروباری نمائندوں کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔

سرکاری بیان کے مطابق بات چیت میں پاکستان اور جرمنی کے دوطرفہ تعلقات، علاقائی و عالمی صورتحال اور بالخصوص اقتصادی و تجارتی تعاون کو وسعت دینے کے امکانات زیر غور آئیں گے۔ دونوں ملک رواں سال سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ بھی منا رہے ہیں، جس کی وجہ سے اس دورے کو سفارتی سطح پر خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

پاکستان جرمنی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، توانائی، سبز منتقلی اور ہنرمند افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔ جرمنی یورپی یونین میں پاکستان کی اہم تجارتی منڈیوں میں شامل ہے اور پاکستانی برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل، کے لیے نمایاں مقام رکھتا ہے۔ حالیہ سفارتی رابطوں میں دونوں جانب سے کاروبار سے کاروبار روابط اور سپلائی چین میں نئے شراکت دار تلاش کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

صدر زرداری کے دورے سے قبل پاکستان کے نئے سفیر سلمان شریف نے 19 اکتوبر کو جرمن صدر کو اپنی اسناد پیش کی تھیں۔ اس موقع پر بھی تجارت، سرمایہ کاری، تکنیکی تعاون، توانائی شراکت داری اور گرین ٹرانزیشن کو دوطرفہ تعلقات کے اہم شعبوں کے طور پر اجاگر کیا گیا تھا۔ جرمن صدر نے پاکستانی سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے صدر زرداری کے دورے کا انتظار کرنے کا اظہار کیا تھا۔

صدر کے دورے میں کاروباری رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں کو اس لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ اسلام آباد دوطرفہ سیاسی روابط کو عملی اقتصادی نتائج سے جوڑنا چاہتا ہے۔ تاہم کسی نئے تجارتی معاہدے یا سرمایہ کاری پیکیج کے حتمی نتائج کا انحصار دورے کے دوران ہونے والی باضابطہ بات چیت اور بعد کی پیش رفت پر ہوگا۔