اسلام آباد: نجکاری کمیشن بورڈ نے اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کی نجکاری کے عمل میں 10 دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کاروں کو پری کوالیفائی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق بورڈ کا اجلاس وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کی صدارت میں ہوا، جس میں توانائی اور مالیاتی شعبے کے متعدد سرکاری اداروں سے متعلق جاری نجکاری معاملات کا جائزہ لیا گیا۔

آئیسکو کے لیے پری کوالیفکیشن کا مرحلہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ منتخب فریق آئندہ مرحلوں میں آگے بڑھنے کے اہل قرار پائے ہیں، تاہم اسے کمپنی کی فروخت یا کسی مخصوص بولی دہندہ کے انتخاب کا حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ نجکاری کے عمل میں عموماً مالی و تکنیکی جانچ، ضروری دستاویزات تک رسائی، بولیوں کی وصولی اور متعلقہ حکومتی منظوریوں جیسے مزید مراحل شامل ہوتے ہیں۔

بورڈ نے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی نجکاری کے لیے بھی پیش رفت کا جائزہ لیا اور رپورٹ کے مطابق اس عمل کو آگے بڑھانے سے متعلق اقدامات زیر غور آئے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری حکومت کے وسیع تر سرکاری ادارہ جاتی اصلاحاتی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد انتظامی کارکردگی بہتر بنانا، مالی نقصانات کم کرنا اور نجی سرمایہ کاری لانا بتایا جاتا ہے۔ اس کے عملی نتائج کا انحصار حتمی لین دین کی شرائط، ریگولیٹری فریم ورک اور خریدار کی ذمہ داریوں پر ہوگا۔

اجلاس میں زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ اور اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن سے متعلق نجکاری معاملات بھی زیر بحث آئے۔ ان اداروں کے بارے میں بورڈ کی سطح پر ہونے والی پیش رفت کو حتمی فروخت سے الگ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ ہر ادارے کے لیے لین دین کا ڈھانچہ، اثاثوں کی قدر، قانونی تقاضے اور مارکیٹ کی دلچسپی مختلف ہو سکتی ہے۔

حکومت نے حالیہ برسوں میں خسارے یا کم کارکردگی والے سرکاری اداروں کی تنظیم نو اور نجکاری کو مالی اصلاحات کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔ آئیسکو کے لیے 10 فریقوں کی پری کوالیفکیشن اس عمل میں ایک قابل ذکر مرحلہ ہے، مگر حتمی ملکیت کی منتقلی اس وقت تک نہیں سمجھی جائے گی جب تک بولی، منظوری اور معاہدے کے متعلقہ مراحل مکمل نہ ہوں۔