اسلام آباد: پاکستان ریلوے نے مین لائن ون (ایم ایل ون) منصوبے کے پہلے مرحلے میں کراچی سے روہڑی تک 480 کلومیٹر نئی ریلوے پٹڑی بچھانے کے لیے تقریباً 2.5 ارب ڈالر کے منصوبے پر جنوری 2027 میں سول کام شروع کرنے کی تیاری کی ہے۔ وزیر ریلوے حنیف عباسی نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ منصوبے کا مقصد پرانے اور حادثات کے زیادہ خطرے والے ٹریک کو بہتر بنانا اور ٹرینوں کے پٹڑی سے اترنے کے واقعات میں کمی لانا ہے۔

وزیر کے مطابق کراچی-روہڑی سیکشن کو ایم ایل ون کے ابتدائی مرحلے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ پاکستان ریلوے اس وقت مارکیٹ مشاورت، پری بڈ تیاریوں اور دیگر ضروری مراحل کو تیز کررہی ہے تاکہ وزیراعظم کی مقرر کردہ ٹائم لائن کے مطابق کام آگے بڑھایا جاسکے۔ جنوری 2027 میں کام شروع ہونے کا وقت موجودہ منصوبہ بندی پر مبنی ہے اور عملی آغاز خریداری، معاہدوں اور دیگر انتظامی مراحل کی بروقت تکمیل سے مشروط ہوگا۔

قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ کراچی-روہڑی اور روہڑی-ملتان سیکشن ریلوے نیٹ ورک کے ان حصوں میں شامل ہیں جہاں پرانی پٹڑیوں کی وجہ سے حادثات اور مرمت کے مسائل زیادہ نمایاں ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2022 سے ستمبر 2026 کے درمیان ملک میں ٹرینوں کے پٹڑی سے اترنے کے 349 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ وزیر ریلوے نے خراب ٹریک کو ان واقعات کی بڑی وجہ قرار دیا، جبکہ عملے کی غلطیوں اور رولنگ اسٹاک کی خرابیوں کو بھی متعدد واقعات سے منسلک کیا گیا۔

ایم ایل ون پاکستان کے مرکزی شمال-جنوب ریلوے کوریڈور کی اپ گریڈیشن کا طویل عرصے سے زیر بحث منصوبہ ہے۔ کراچی سے روہڑی تک نئے ٹریک کا مرحلہ نہ صرف مسافر اور مال بردار ٹرینوں کی حفاظت کے لیے اہم ہوگا بلکہ بندرگاہی شہر کراچی کو اندرون ملک تجارتی مراکز سے ملانے والی ریلوے صلاحیت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم منصوبے کے مکمل معاشی اور عملی نتائج اس کی حتمی فنانسنگ، تعمیراتی معیار اور مقررہ مدت میں تکمیل پر منحصر ہوں گے۔

حکومت کی جانب سے فی الحال بنیادی اعلان 480 کلومیٹر ٹریک، تقریباً 2.5 ارب ڈالر کی لاگت اور جنوری 2027 میں سول کام شروع کرنے کے ہدف سے متعلق ہے۔ اسے مکمل شدہ منصوبہ یا حتمی تعمیراتی نتیجہ نہیں سمجھا جانا چاہیے؛ آئندہ ٹینڈر اور معاہدوں کے بعد لاگت اور شیڈول کی مزید تفصیلات واضح ہوسکتی ہیں۔