اسلام آباد: وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ مین لائن ون کے کراچی سے روہڑی سیکشن کی تعمیر و اپ گریڈیشن پر تقریباً 2.5 ارب ڈالر لاگت آئے گی اور منصوبے کا سنگ بنیاد جنوری یا فروری 2027 میں رکھے جانے کا امکان ہے۔ وزیر نے یہ تفصیلات قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات میں پیش کیں، جبکہ سرکاری ریڈیو پاکستان نے بھی پارلیمانی کارروائی کی رپورٹ جاری کی۔
کراچی روہڑی سیکشن تقریباً 480 کلومیٹر پر محیط ہے اور حکومت اسے وسیع تر ایم ایل ون جدیدکاری منصوبے کے پہلے مرحلے کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے۔ دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک اس منصوبے کی مالی معاونت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان نے دیگر کثیرالجہتی ترقیاتی اداروں کے ساتھ بھی ممکنہ شریک فنانسنگ پر بات چیت کی ہے، تاہم تعمیراتی فنانسنگ کے ہر حصے کو حتمی منظوری ملنے سے پہلے اسے مکمل شدہ مالی بندوبست نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
وزیر ریلوے نے اسمبلی میں بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد پرانے اور حادثات کے خطرے سے دوچار ٹریک کو جدید بنانا ہے۔ پاکستان ریلوے کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2022 سے ستمبر 2026 تک 349 ٹرین ڈی ریلمنٹ ریکارڈ ہوئے اور خراب ٹریک ان واقعات کی بڑی وجوہ میں شامل رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کراچی روہڑی اور روہڑی ملتان حصے پرانی پٹڑی اور مسلسل مرمت کی ضرورت کے باعث خصوصی توجہ چاہتے ہیں۔
مجوزہ کام میں نئی اپ اور ڈاؤن لائنیں، بعض مقامات پر تعمیر نو، پلوں اور کلورٹس سے متعلق کام، اسٹیشنوں اور مال بردار سہولیات کی بہتری اور حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد رفتار، گنجائش اور آپریشنل حفاظت میں بہتری کا ہدف رکھا گیا ہے۔ حکومتی دستاویزات میں کراچی روہڑی راہداری کو مسافر اور مال بردار ٹریفک کے اعتبار سے قومی ریلوے نیٹ ورک کا انتہائی اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی میں وزیر نے یہ بھی بتایا کہ تقریباً دو لاکھ کنال ریلوے اراضی غیر قانونی قابضین سے واگزار کرائی جاچکی ہے اور حفاظتی امور کی نگرانی کے لیے باقاعدہ سیفٹی ڈائریکٹوریٹ قائم کیا گیا ہے۔ موجودہ اعلان میں اہم نئی پیش رفت یہ ہے کہ حکومت نے پارلیمان میں 2.5 ارب ڈالر کی لاگت اور 2027 کے آغاز میں ممکنہ سنگ بنیاد کی ٹائم لائن دوبارہ واضح کی ہے۔ چونکہ بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں خریداری اور مالی منظوریوں سے شیڈول متاثر ہوسکتا ہے، اس لیے جنوری یا فروری کی تاریخ کو متوقع ٹائم لائن کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

