اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان میں زیر تعلیم 87 افغان طلبہ کی اسٹڈی ویزا توسیع سے متعلق درخواست نمٹاتے ہوئے معاملہ وزارت داخلہ کو بھیج دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ طلبہ کے پاکستان میں قیام سے متعلق درخواست پر 30 روز کے اندر فیصلہ کیا جائے۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے عطا رضا اور دیگر کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے بعد یہ حکم جاری کیا۔

درخواست گزار افغان شہری پاکستان کے تسلیم شدہ تعلیمی اداروں میں انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی اسٹڈی ویزا توسیع کی درخواستیں طویل عرصے سے زیر التوا ہیں۔ طلبہ نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ متعلقہ حکام کو ان درخواستوں پر فیصلہ کرنے کی ہدایت دی جائے اور اس دوران سابق ویزوں کی مدت ختم ہونے کی بنیاد پر انہیں ہراساں، گرفتار یا ملک بدر نہ کیا جائے۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ویزا درخواستوں میں تاخیر سے طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ بینکاری سہولتوں اور ہاسٹل سے متعلق معاملات میں بھی مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ سماعت کے دوران افغانستان کے سفارت خانے کی ایک سفارتی مراسلت کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں پاکستانی حکام سے متعلقہ درخواستوں کی کارروائی تیز کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

عدالت نے اس سے قبل 15 ستمبر کو درخواست کے قابل سماعت ہونے کے سوال پر غور کیا تھا، کیونکہ درخواست گزار پاکستانی شہری نہیں بلکہ افغان باشندے ہیں۔ بعد کی سماعت میں طلبہ کے وکیل نے کہا کہ اگر عدالت مقدمے کو ایک نمائندگی میں تبدیل کرکے وزارت داخلہ کو مقررہ مدت میں فیصلہ کرنے کے لیے بھیج دے تو درخواست گزار اس طریقہ کار سے مطمئن ہوں گے۔

سرکاری وکیل نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ غیر ملکی شہریوں کے قیام اور ویزا سے متعلق امور حکومتی پالیسی کے دائرے میں آتے ہیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد براہ راست رِٹ اختیار استعمال کرنے کے بجائے عدالتی دفتر کو ہدایت کی کہ درخواست اور اس کے ساتھ منسلک دستاویزات وزارت داخلہ کو منتقل کی جائیں۔ وزارت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ 30 روز کے اندر معاملے کا فیصلہ کرے۔

عدالتی حکم کا فوری نتیجہ طلبہ کے ویزوں میں خودکار توسیع نہیں ہے بلکہ اب انتظامی فیصلہ وزارت داخلہ نے کرنا ہے۔ اس لیے کیس میں عدالت کی جانب سے حتمی ویزا منظوری یا مستقل قیام کا کوئی فیصلہ نہیں دیا گیا؛ حکم بنیادی طور پر زیر التوا معاملے کو مقررہ مدت کے اندر انتظامی طور پر نمٹانے سے متعلق ہے۔