لاہور: پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور نے کرسچن میرج بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ مجوزہ قانون کا مقصد 1872 کے مسیحی شادی کے قانون کی جگہ صوبے میں مسیحی برادری کی شادیوں کے لیے نیا قانونی فریم ورک متعارف کرانا ہے۔ بل اب پنجاب اسمبلی کی منظوری کے مرحلے سے گزرے گا، اس لیے قائمہ کمیٹی کی منظوری کو قانون کے حتمی نفاذ کے مترادف نہیں سمجھا جائے گا۔
بل نجی رکن کی حیثیت سے رکن پنجاب اسمبلی فلیبوس کرسٹوفر نے پیش کیا تھا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت مسلم لیگ (ن) کی رکن صوبائی اسمبلی راحیلہ خادم حسین نے کی۔ اجلاس میں مجوزہ قانون کی مختلف شقوں کا جائزہ لیا گیا اور اسے آگے بڑھانے کی منظوری دی گئی۔
بل میں مسیحی مرد اور عورت دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ پیش کرنے والے رکن کے مطابق موجودہ قانونی بندوبست میں لڑکے کے لیے کم از کم عمر 16 سال اور لڑکی کے لیے 13 سال ہے۔ مجوزہ قانون میں رضامندی کے تحفظ اور شادی کے قانونی ریکارڈ کو زیادہ واضح بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
مسودے کے مطابق مسیحی شادی کی باقاعدہ رجسٹریشن یونین کونسل اور نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ساتھ لازمی بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ شادی سے قبل تحریری اطلاع، مجوزہ شادی کا عوامی اعلان اور مقررہ فارموں و رجسٹروں کے ذریعے ریکارڈ محفوظ کرنے کا طریقہ کار شامل کیا گیا ہے۔ بل میں یہ بھی تجویز ہے کہ شادی کے دونوں فریق مسیحی ہوں۔
مجوزہ قانون کے تحت پنجاب حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ گرجا گھروں میں مسیحی مذہبی طریقہ کار کے مطابق شادیاں کرائی جا سکیں گی۔ حکومت کی جانب سے مجاز قرار دیے گئے مذہبی طور پر تعلیم یافتہ پادری یا میرج رجسٹرار بھی شادی کی رسم انجام دے سکیں گے، جبکہ تقریب کے لیے کم از کم دو گواہوں کی موجودگی ضروری ہوگی۔ مسودے میں شادی کی تقریب کے دن یا وقت پر موجودہ نوعیت کی پابندی نہ رکھنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
یہ بل اپریل 2026 میں پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا اور اس وقت بعض مسیحی مذہبی رہنماؤں اور قانونی ماہرین نے اس پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ ان حلقوں کا مؤقف تھا کہ طلاق، نکاح کے خاتمے، وراثت، بچوں کی تحویل اور علیحدگی جیسے وسیع عائلی معاملات پر بھی اصلاحات اور چرچ کے ساتھ مزید مشاورت ضروری ہے۔ قائمہ کمیٹی کی موجودہ منظوری کے بعد بھی حتمی قانونی متن اور نفاذ پنجاب اسمبلی کے آئندہ قانون سازی کے مراحل سے مشروط رہے گا۔
