پاکستان تحریک انصاف نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد کی جانب 4 اکتوبر کے لیے طے شدہ احتجاجی مارچ اپنے پروگرام کے مطابق ہوگا، جبکہ وفاقی حکومت کے بعض نمائندوں نے خیبرپختونخوا میں سکیورٹی صورتِ حال اور وفاق صوبہ کشیدگی کے تناظر میں ایمرجنسی یا گورنر راج جیسے آئینی آپشنز زیرِ غور ہونے کی بات کی ہے۔

ڈان کے مطابق سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے چارسدہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مارچ ملتوی کرنے کا کوئی امکان نہیں اور پارٹی 4 اکتوبر کو اپنے اعلان کردہ پروگرام پر عمل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کیا گیا تو پی ٹی آئی اس اقدام کو قانونی طریقے سے چیلنج کرے گی۔ عبوری چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی کہا کہ پارٹی کا مارچ پرامن ہوگا اور ان کے بقول ایمرجنسی یا گورنر راج احتجاج کا حل نہیں۔

دوسری جانب وفاقی حکومت کے نمائندوں نے مختلف بیانات میں کہا ہے کہ آئین میں دستیاب آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات اور صوبائی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے وفاقی سطح پر ایمرجنسی کے امکان پر سنجیدگی سے بات ہو رہی ہے۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 232 کا حوالہ دیا، تاہم کسی حتمی فیصلے یا باضابطہ نوٹیفکیشن کا اعلان نہیں کیا گیا۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ نے بھی ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ وفاق کے پاس آئینی اقدامات کے آپشن موجود ہیں اور وزیراعظم کو سیاسی صورتِ حال پر بریف کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت اور صوبائی حکام کے درمیان غیر رسمی رابطے بھی ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر نے اس مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج کو غیر قانونی سرگرمی قرار نہیں دیا جا سکتا اور پارٹی بدنظمی پیدا کرنے کے الزامات مسترد کرتی ہے۔

یہ سیاسی تنازع ایسے وقت میں بڑھا ہے جب پی ٹی آئی نے اپنے مارچ کی تاریخ پہلے 27 ستمبر سے بدل کر 4 اکتوبر کی تھی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ احتجاج کے مطالبات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور آئینی و سیاسی معاملات شامل ہیں۔ وفاقی وزرا، اس کے برعکس، سکیورٹی اور امن و امان کے خدشات کو اہم قرار دے رہے ہیں۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر سیاسی دباؤ اور غیر آئینی طرزِ عمل کے الزامات لگائے گئے ہیں، جنہیں متعلقہ فریق اپنے اپنے مؤقف کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں کسی بھی ایمرجنسی، گورنر راج یا دوسرے آئینی اقدام کے لیے آئین اور متعلقہ قانونی طریقۂ کار کی پابندی ضروری ہوگی۔ حالیہ بیانات فی الحال سیاسی اور حکومتی مشاورت کی سطح پر ہیں؛ کوئی حتمی اقدام نافذ نہیں کیا گیا۔ 4 اکتوبر کے مارچ کے قریب آنے کے ساتھ انتظامی تیاریوں، ممکنہ مذاکرات اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے آئندہ فیصلوں پر توجہ مرکوز رہے گی۔