کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں بیت المکرم مسجد کے قریب زیرِ تعمیر بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کا ایک ڈھانچہ گرنے سے ایک سکیورٹی گارڈ جاں بحق ہو گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کے بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور ملبے تلے دبے شخص کو نکالنے کے لیے آپریشن کیا گیا۔ بعد میں اس کی لاش برآمد کر لی گئی اور ریسکیو آپریشن مکمل قرار دیا گیا۔
Geo News کے مطابق ریسکیو 1122 نے بتایا کہ متاثرہ شخص تعمیراتی مقام پر ڈیوٹی گارڈ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ حکام کے مطابق ابتدائی کارروائی میں کسی دوسرے زخمی یا ملبے میں پھنسے فرد کی اطلاع نہیں ملی۔ واقعے کی فوری وجہ کے بارے میں متعلقہ اداروں نے کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا، اس لیے یہ واضح نہیں کہ ڈھانچہ تکنیکی خرابی، تعمیراتی عمل، حفاظتی انتظامات یا کسی دوسرے سبب سے گرا۔
ریسکیو حکام نے گرنے والے حصے کو کراچی کے بی آر ٹی منصوبے سے منسلک قرار دیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب شہر میں ریڈ لائن بی آر ٹی کے مختلف حصوں پر طویل عرصے سے تعمیراتی کام، ٹریفک کی بندش اور منصوبے میں تاخیر کے مسائل زیرِ بحث ہیں۔ منصوبہ 2022 میں شروع کیا گیا تھا اور اس کی ابتدائی تکمیل کی مدت 30 ماہ رکھی گئی تھی، تاہم مختلف انتظامی اور تعمیراتی رکاوٹوں کے باعث کام اصل شیڈول سے آگے بڑھ چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریڈ لائن کے لاٹ 2 میں موسمیات سے نمائش تک کا حصہ شامل ہے اور اس حصے پر ماضی میں کام رکنے، ٹھیکیداری تنازعات اور ادائیگیوں سے متعلق مسائل سامنے آتے رہے ہیں۔ سابق کنٹریکٹر کی کارکردگی پر اعتراضات کے بعد فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے اپریل میں اس حصے پر کام دوبارہ شروع کیا تھا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک، جو منصوبے میں شریک ہے، تعمیراتی رفتار کے ساتھ صحت، حفاظت اور ماحولیاتی ضوابط کے نفاذ پر بھی توجہ دلاتا رہا ہے۔
حادثے کے بعد سب سے اہم سوال تعمیراتی مقام پر حفاظتی انتظامات اور ڈھانچے کے گرنے کی اصل وجہ سے متعلق ہے۔ کسی بھی ذمہ داری کا تعین تکنیکی معائنے، متعلقہ اداروں کی تحقیقات اور ممکنہ طور پر ٹھیکیدار و نگران حکام کے ریکارڈ کے جائزے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔ اس مرحلے پر کسی فریق کی غفلت ثابت نہیں ہوئی اور دستیاب خبر صرف ایک ہلاکت اور ڈھانچے کے انہدام کی تصدیق کرتی ہے۔
کراچی میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں پر جاری کام کے دوران شہری راستوں، مزدوروں اور سکیورٹی عملے کی حفاظت ایک اہم انتظامی مسئلہ ہے۔ اس واقعے کے بعد توقع ہے کہ متعلقہ منصوبہ حکام تعمیراتی مقام کا معائنہ، باقی ڈھانچوں کی حفاظتی جانچ اور حادثے کی وجوہات کا تعین کریں گے۔ مزید سرکاری تفصیلات سامنے آنے پر ہی یہ واضح ہوگا کہ کام کب بحال ہوگا اور آیا حفاظتی طریقۂ کار میں کسی تبدیلی کی ضرورت پیش آئے گی۔
