لاہور: اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق پراپرٹی مقدمات کے لیے ای فائلنگ رولز 2026 جاری کر دیے گئے ہیں، جن کے تحت متعلقہ خصوصی عدالتوں میں درخواستیں اور دستاویزات الیکٹرانک طور پر جمع کرانے، ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں شرکت اور عدالتی فیصلوں تک آن لائن رسائی کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق نئے قواعد کا مقصد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو جائیداد کے تنازعات میں ہر مرحلے پر پاکستان آ کر ذاتی حاضری دینے کی ضرورت کم کرنا اور عدالتی عمل تک رسائی آسان بنانا ہے۔
قواعد کے تحت اہل درخواست گزار اپنی پٹیشن اور متعلقہ دستاویزات نامزد الیکٹرانک نظام کے ذریعے خصوصی عدالت کے سامنے داخل کر سکیں گے۔ سماعت کے دوران ویڈیو لنک سے شرکت کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے، جبکہ نوٹس الیکٹرانک طور پر جاری کیے جا سکیں گے۔ اس طریقہ کار کا مقصد خاص طور پر ان مقدمات میں عملی مشکل کم کرنا ہے جہاں فریق بیرون ملک رہتا ہو اور بار بار پاکستان آنا وقت اور لاگت کے اعتبار سے دشوار ہو۔
رپورٹ کے مطابق عدالتوں کے فیصلے اور ڈگریاں بھی مخصوص آن لائن پورٹل پر اپ لوڈ کی جائیں گی تاکہ متعلقہ فریق انہیں الیکٹرانک طور پر دیکھ اور حاصل کر سکیں۔ قواعد میں الیکٹرانک شہادت کے تحفظ اور عدالتی ریکارڈ کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ رکھنے کے لیے بھی طریقہ کار تجویز کیا گیا ہے۔ یہ پہلو اس لیے اہم ہے کہ ای فائلنگ صرف دستاویز جمع کرانے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مقدمے کے ریکارڈ، نوٹس، سماعت اور فیصلے کے متعدد مراحل ڈیجیٹل نظام سے منسلک ہوں گے۔
نئے فریم ورک میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ تکنیکی خرابی یا ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں جہاں الیکٹرانک فائلنگ ممکن نہ ہو۔ اسی لیے مخصوص حالات میں کاغذی درخواست جمع کرانے اور آن لائن نظام میں خلل آنے کی صورت میں متبادل فائلنگ طریقہ کار کی گنجائش رکھی گئی ہے تاکہ تکنیکی مسئلے کی وجہ سے کسی فریق کی عدالت تک رسائی متاثر نہ ہو۔
اوورسیز پاکستانیوں کی پراپرٹی سے متعلق خصوصی عدالتوں کا قانونی دائرہ مختلف وفاقی اور صوبائی قوانین کے تحت مختلف ہو سکتا ہے۔ اس لیے ای فائلنگ قواعد کو پورے ملک کی ہر قسم کی جائیداد پر خودکار طور پر لاگو سمجھنا درست نہیں؛ کسی مقدمے میں متعلقہ خصوصی عدالت اور قانونی دائرۂ اختیار کا تعین اس جائیداد کے مقام اور نافذ قانون کے مطابق ہوگا۔
تازہ قواعد کا بنیادی عملی اثر یہ ہے کہ متعلقہ اوورسیز پاکستانی مقدمات میں عدالتی رسائی کو زیادہ ڈیجیٹل بنایا گیا ہے۔ اس سے درخواست، دستاویزات، نوٹس، ویڈیو سماعت اور عدالتی فیصلے تک الیکٹرانک رسائی کا باقاعدہ طریقہ سامنے آیا ہے، تاہم کسی بھی مقدمے کے حقائق، ملکیت اور حتمی فیصلے کا تعین عدالت ہی کرے گی۔
