اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ممبر اسٹیٹ محمد زمان وٹو کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی میں ان کی غیر مشروط معافی فوری طور پر قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے 12 نومبر کو باقاعدہ فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ معاملہ متاثرین کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ سے متعلق ایک مقدمے میں عدالتی احکامات اور افسر کی حاضری کے تنازع سے پیدا ہوا۔

چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے کارروائی کی سماعت کرتے ہوئے پراسیکیوٹر کو آئندہ سماعت کے لیے تیاری کی ہدایت کی۔ عدالت نے محمد زمان وٹو کو بھی 12 نومبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے سی ڈی اے کی جانب سے مقدمے میں مناسب معاونت نہ ملنے پر بھی ناراضی کا اظہار کیا۔

محمد زمان وٹو کے وکیل نے عدالت سے غیر مشروط معافی قبول کرنے کی درخواست کی جبکہ افسر نے خود بھی عدالت کے سامنے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور توہین عدالت کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ معافی پر بعد کے مرحلے میں غور کیا جا سکتا ہے، تاہم موجودہ مرحلے پر کارروائی آگے بڑھے گی۔

تنازع کی بنیاد ستمبر کی ایک سماعت سے جڑی ہے، جب سی ڈی اے افسر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم تھا۔ ان کے پہلے تحریری جواب کے مطابق وہ اسی وقت اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک دوسرے بینچ کے سامنے ایک الگ مقدمے میں پیش ہو رہے تھے جہاں سی ڈی اے چیئرمین کو بھی ذاتی حاضری کا حکم دیا گیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ دوسری عدالت کی کارروائی جاری رہنے کے باعث چیف جسٹس کی عدالت میں بروقت پیش ہونا ممکن نہیں تھا۔

عدالت نے اس وضاحت کے باوجود افسر کے طرز عمل اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے معاملے کو توہین عدالت کی کارروائی کے لیے کافی سمجھتے ہوئے اگلا مرحلہ مقرر کر دیا۔ یہ بات اہم ہے کہ فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کسی حتمی سزا یا مجرم قرار دیے جانے کے مترادف نہیں؛ محمد زمان وٹو کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ابھی زیر سماعت ہے اور قانونی ذمہ داری کا حتمی تعین عدالتی عمل مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 12 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔ آئندہ سماعت میں باضابطہ چارج فریم کیے جانے اور فریقین کے مزید قانونی دلائل سامنے آنے کی توقع ہے۔