پشاور: لکی مروت میں پولیس نے گنڈی چوک کے قریب ایک مقابلے کے دوران دو مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں ایک شخص کو مبینہ خودکش بمبار قرار دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے میں ایک تیسرا مشتبہ شخص زخمی حالت میں فرار ہو گیا اور اس کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے پولیس کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ کالے شیشوں والی ایک مشتبہ گاڑی گنڈی چوک کے قریب دیکھی گئی، جس پر پولیس ٹیم موقع پر پہنچی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی میں موجود افراد نے اہلکاروں کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کر دی اور فرار ہونے کی کوشش کی۔ جوابی کارروائی میں دو افراد مارے گئے جبکہ ایک شخص زخمی ہونے کے باوجود فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔
پولیس کے مطابق گاڑی سے اسلحہ، گولہ بارود، کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسوب ایک جھنڈا، خواتین کے برقعے اور دیگر مشتبہ اشیا برآمد ہوئیں۔ حکام نے ان اشیا کی بنیاد پر شبہ ظاہر کیا ہے کہ ملزمان کسی بڑی تخریبی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ تاہم پولیس نے واضح کیا کہ ممکنہ ہدف اور منصوبے کی نوعیت کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں، اس لیے اس مرحلے پر کسی مخصوص ہدف یا حملے کے منصوبے کو حتمی طور پر ثابت شدہ نہیں کہا جا سکتا۔
واقعے کے بعد پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے اضافی دستے علاقے میں پہنچ گئے۔ فرار ہونے والے مشتبہ شخص کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں تحویل میں لے کر شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا۔
خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے لکی مروت پولیس کی کارروائی کو سراہتے ہوئے اہلکاروں کی بروقت مداخلت کی تعریف کی۔ پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ فوری ردعمل سے ممکنہ حملہ روکا گیا، لیکن اس دعوے کے اہم پہلو، خصوصاً ہلاک افراد کی شناخت، مبینہ خودکش بمبار کی حیثیت اور منصوبہ بند ہدف، تفتیش مکمل ہونے کے بعد مزید واضح ہوں گے۔
یہ واقعہ دہشت گردی سے متاثرہ جنوبی خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پیش آیا، جہاں سکیورٹی ادارے حالیہ عرصے میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ موجودہ واقعے سے متعلق دستیاب معلومات بنیادی طور پر ضلعی پولیس کے ابتدائی بیان پر مبنی ہیں اور آزادانہ تفتیشی نتائج ابھی سامنے نہیں آئے۔
