اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے مالیت کا ترقیاتی اور سکیورٹی پیکیج حتمی کر لیا ہے۔ سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم نے بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مسلح افواج، نئی صوبائی انتظامیہ اور وفاقی حکومت کے درمیان باہمی تعاون کو آگے بڑھایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں امن کے قیام کے ساتھ ترقیاتی ضروریات پر بھی توجہ دی جا رہی ہے، اسی تناظر میں 160 ارب روپے کا مشترکہ ترقیاتی و سکیورٹی پیکیج تیار کیا گیا ہے۔

کابینہ اجلاس میں وزیراعظم نے علاقائی صورتحال پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو سے تین ہفتوں کے دوران پاکستانی وفد نے دو مرتبہ تہران کا دورہ کیا، جہاں بات چیت میں علاقائی کشیدگی کم کرنے اور تعاون بڑھانے کے امور زیر غور آئے۔ یہ بیان خطے میں جاری تناؤ اور اس کے معاشی اثرات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔

شہباز شریف نے ایندھن کی قیمتوں کے حوالے سے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے باعث پیٹرول پر پیدا ہونے والا 15 روپے فی لیٹر کا اضافی بوجھ صارفین کو منتقل نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق حکومت نے ریفائنریوں سے رابطہ کرکے ان سے غیر معمولی منافع میں حصہ ڈالنے کو کہا۔ وزیراعظم نے اس ضمن میں وزارت پیٹرولیم کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی فیول سبسڈی اسکیم جاری ہے اور اب تک ڈیڑھ کروڑ افراد اس سے مستفید ہوئے ہیں، جبکہ اس مد میں 28 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ وزیراعظم کے مطابق اسکیم کم از کم اگلے ماہ کے اختتام تک جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے ایل پی جی کی فراہمی اور تقسیم میں شفافیت کے لیے متعارف کرائے گئے نئے طریقہ کار کا بھی ذکر کیا۔

خیبرپختونخوا پیکیج کی رقم اور اس کے ترقیاتی و سکیورٹی مقصد کی تصدیق سرکاری بیان سے ہوتی ہے، تاہم دستیاب سرکاری رپورٹ میں اس رقم کی ضلع وار تقسیم، منصوبوں کی مکمل فہرست یا اخراجات کا تفصیلی شیڈول جاری نہیں کیا گیا۔ اس لیے ان پہلوؤں سے متعلق مزید تفصیلات متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں کی جانب سے سامنے آنا باقی ہیں۔