اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے مجوزہ احتجاج سے متعلق درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور شہریوں کو پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کا آئینی حق حاصل ہے، تاہم اس حق کا استعمال دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق کو متاثر کرنے کے انداز میں نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد آصف اور جسٹس محمد اعظم خان شامل تھے، نے 37 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ مقدمہ ایک شہری وقاص احمد کی درخواست پر سامنے آیا تھا، جس نے مجوزہ مارچ کے باعث وفاقی دارالحکومت میں معمولاتِ زندگی، ٹریفک اور کاروباری سرگرمیوں میں ممکنہ خلل کا معاملہ اٹھایا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ معاملہ سیاسی جماعت کے احتجاج کے حق کی نفی کا نہیں بلکہ آئینی حقوق کے باہمی توازن کا ہے۔ فیصلے کے مطابق شہریوں کی زندگی، آزادی، وقار، نقل و حرکت، کاروبار، املاک اور ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، عدالتوں اور کام کی جگہوں تک رسائی بھی آئینی تحفظ رکھتی ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ کوئی سیاسی جماعت، سیاسی رہنما، صوبائی حکومت یا عوامی عہدہ رکھنے والا شخص اسلام آباد کے اندر یا دارالحکومت کی طرف آنے جانے والی سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز، ٹول پلازوں، عمارتوں یا دیگر عوامی مقامات کو اس انداز میں استعمال نہیں کر سکتا جس سے آزادانہ نقل و حرکت یا ضروری خدمات تک رسائی میں رکاوٹ پیدا ہو۔

فیصلے میں صوبائی حکومتوں اور وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی گئی کہ کسی سیاسی مارچ یا جلوس کے لیے سرکاری وسائل، عوامی فنڈز، اہلکاروں، گاڑیوں، مشینری یا آلات کے براہ راست یا بالواسطہ استعمال کی اجازت نہ دی جائے۔ متعلقہ چیف سیکرٹریز، پولیس سربراہان اور وفاقی حکام کو بھی ماتحت اہلکاروں کے لیے ضروری ہدایات جاری کرنے کا کہا گیا ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ اسلام آباد میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا باعث بننے والی سرگرمی آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی، جبکہ کسی عوامی عہدہ رکھنے والے شخص کی ایسی سرگرمی اس کے حلف سے متعلق قانونی نتائج بھی پیدا کر سکتی ہے۔ یہ عدالتی فیصلہ ایک جاری سیاسی تنازع کے تناظر میں آیا ہے، اس لیے اس میں بیان کردہ احکامات کو عدالت کے قانونی حکم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی سیاسی فریق کے مؤقف کی توثیق کے طور پر۔

پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ عدالت نے ماضی کے احتجاجی واقعات اور متعلقہ عدالتی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے انتظامیہ اور سیاسی فریقوں دونوں کو قانون اور آئینی حدود کی پابندی کی یاد دہانی کرائی ہے۔